رمادی کا قبضہ واپس لینے کے لیے فوجی آپریشن کا آغاز

،تصویر کا ذریعہEPA
عراق میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز اور شیعہ ملیشیا نے دولتِ اسلامیہ سے صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی کا قبضہ واپس لینے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت لڑائی رمادی کے مشرق میں واقع شہرحصیبہ جاری ہے۔
<link type="page"><caption> رمادی سے نقل مکانی کرنے والوں کو بغداد آنے سے روک دیا گیا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/05/150523_ramadi_baghdad_bridge_closed_mb" platform="highweb"/></link>
گذشتہ اتوار کو دولت اسلامیہ نے رمادی پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد عراقی وزیراعظم نے شہر کو واپس لینے کے لیے شیعہ ملیشیا کو مدد کے لیے بلایا تھا۔
پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ رمادی سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع حصیبہ شہر کو آزاد کرانے کے لیے فوجی آپریشن شروع کر دیاگیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق حصیبہ کے فوجی اڈے سے سکیورٹی اہلکاروں کو روانہ ہوتے دیکھا ہے۔ اس کے علاوہ شیعہ ملیشیا کے تین ہزار اہلکار بھی شہر میں موجود ہیں اور رمادی شہر سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
دوسری جانب <link type="page"><caption> عراقی حکام نے اس اہم پل کو بند کر دیا ہے جس کے ذریعے لوگ رمادي شہر سے نقل مکانی کرکے دارالحکومت بغداد میں داخل ہو رہے ہیں۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/05/150523_ramadi_baghdad_bridge_closed_mb" platform="highweb"/></link>
رمادي پر دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کا قبضہ ہونے کے بعد تقریباً 40 ہزار سے زیادہ لوگ شہر چھوڑ چکے ہیں اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ ان لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے کے نائب کوارڈینیٹر نے رمادی چھوڑنے والے ان افراد کی پریشانیوں اور مشکلات کا ذکر کیا ہے۔
نائب کوارڈینیٹر ڈومینک بارش نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بے گھر ہونے والے افراد میں خواتین، بوڑھے اور بیمار بھی شامل ہیں جنھیں بغداد میں داخل ہونے والے پل کے قریب روک دیا گیا ہے۔‘
انھوں بتایا ہے کہ پل کے قریب پانی کی کمی کے سبب کئی بچوں کی ہلاکت بھی خبریں ہیں۔
ڈومینک ڈومینک نے بتایا کہ جو لوگ ابھی بھی رمادی میں ہیں ان کے بارے بہت کم معلومات ہیں۔
انھوں نے کہا: ’ہمیں انتقامی کاروائیوں، گولی مارنے اور شہر میں جو شہری بچ گئے ہیں ان کے خلاف ظلم و ستم کی خبریں مل رہی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
جمعے کو عراق کے نائب وزیر اعظم صالح المطلق نے متنبہ کیا کہ دولت اسلامیہ سے ’جنگ اب مقامی بات نہیں رہ گئي ہے‘ اور بین الاقوامی برادری سے اس ضمن میں عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
شام پر انسانی حقوق کی آبزرویٹری نے کہا ہے کہ اپنے حالیہ حملے میں دولت اسلامیہ نے عراق سے ملحق شام کی حکومت کے زیرانتظام آخری شہر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ شام میں پیلمائرا اور عراق میں رمادی پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے شدت پسند تنظیم کے خلاف جاری مہم کو دھچکا پہنچا ہے تاہم صدر اوباما نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ یہ جنگ ہار رہا ہے۔
رمادی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں شہر پر اپنا قبضہ مضبوط کر رہے ہیں اور انھوں نے نہ صرف دفاعی مورچے قائم کیے ہیں بلکہ شہر میں بارودی سرنگیں بھی بچھا دی ہیں۔







