اوباما کے مستقبل کا دارومدار دولتِ اسلامیہ پر

،تصویر کا ذریعہGetty
تجزیہ نگار، مبصرین اور سیاست دان امریکی صدر براک اوباما کی عراق کے حوالے سے حکمت عملی کو ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے قرار دے رہے ہیں۔
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے اپنی انتخابی مہم امریکہ کو عراق سے باہر نکالنے پر چلائی تھی، اب وہ اپنی صدارت کے آخری ڈیڑھ برسوں میں اپنے پیچھے عراق اور شام میں زمینی فوجی کارروائی کا امکان چھوڑے جا رہا ہے۔
گذشتہ چند دنوں میں صدر اومابا کو درپیش چیلنجوں کی تازہ ترین مثالیں سامنے آئی ہیں۔ جمعے کو شہ سرخی تھی کہ امریکہ کی شام میں کارروائی سے دولت اسلامیہ کا سینیئر رہنما ابو سیاف ہلاک ہو گیا ہے۔
ہارورڈ کے سرکاری پروفیسر جولیت کیم نے لکھا تھا کہ یہ ایک ’اچھی موت‘ تھی، اور یہ کارروائی ’بغیر کسی خرابی کے سرانجام دی گئی۔‘
دی نیشنل ریویو کے ٹام روگن نے بھی صدر کی زیادہ تعریف نہیں کی اور اسے ’اچھی خبر‘ قرار دیا تاہم انھوں نے تنبیہہ کی کہ ’آخری لمحات میں کامیابی حاصل کرنا کھیل میں فتح کرنے کے برابر نہیں ہے۔‘
ٹام روگن نے جس جانب اشارہ کیا ویسا ہی ہوا، اتوار کو عراق کے صوبہ انبار کے دارالحکومت پر دولت اسلامیہ کا قبضہ ہو گیا، اور بہت سارے افراد کی نظر کی دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں حاصل ہونے والی کامیابیاں خاک ہو گئیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
واشنگٹن پوسٹ کے اداریے کی سرخی تھی کہ ’رمادی میں پسپائی اوباما کی دولت اسلامیہ کے حوالے سے کمزور حکمت عملی کا اظہار ہے۔‘
اداریہ نگاروں نے صدر اوباما کے دولت اسلامیہ کو ’شکست دینے اور مکمل تباہ‘ کرنے کے منصوبے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ اس میں ’شام سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا کوئی منصوبہ شامل نہیں تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسوسی ایٹڈ پریس کے رابرٹ برنز کے مطابق صدر اوباما کو دولت اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے ’پلان بی‘ یعنی متبادل منصوبے کی ضرورت ہے۔
وہ لکھتے ہیں: ’رمادی میں شکستِِ فاش عراقی فوج کی کمزوری ظاہر کرتی ہے، سست مصالحتی عمل اور بمباری کی کارروائی کسی حد تک تو موثر تھی لیکن فیصلہ کن نہیں۔‘
وہ اس جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ رمادی امریکہ میں بہت سارے افراد کے نزدیک خاص اہمیت کی حامل تھا، کیونکہ سنہ 07-2006 میں عراقی باغیوں کے خلاف امریکی افواج نے ایک مشکل جنگ کے بعد اس علاقے میں کامیابی حاصل کی تھی۔
وہ لکھتے ہیں: ’رمادی میں شکست کے تمام عوامل کو بیان کرنا مشکل عمل ہے۔ لیکن یہ نہ صرف رمادی کے رہائشیوں کے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث ہے بلکہ اس سے دولت اسلامیہ کے قبضے میں شمالی عراق کے سب سے بڑے شہر موصل کو ان کے قبضے سے چھڑانے کے لیے عراقی کوششوں میں بھی تاخیر پیدا ہوگی۔‘
اینڈریو میلکم انویسٹرز بزنس میں لکھتے ہیں کہ صدر اوباما نے بنیادی طور پرعراق میں کامیابی کے بعد ہاتھ اٹھا لیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
کانگریس میں بھی سیاست دانوں نے سخت تنقید کی۔
رپبلکن سپیکر آف ہاؤس جان بینر نے کہا کہ ’صدر کا منصوبہ کارگر ثابت نہیں ہو رہا۔ یہ وقت ہے کہ وہ صحیح اور موثر حکمت عملی پیش کریں تاکہ دہشت گردی کے خطرے کو شکست دی جا سکے۔‘
ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کے سینیئر ڈیموکریٹ رہنما ایڈم شِف نے رمادی میں پسپائی کو ’ایک تشویش ناک اور واضح دھچکہ‘ کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے واشنگٹن میں ’خطرے کی گھنٹی بج جانا چاہیے۔‘
منگل کو وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جوش ارنیسٹ اس تنقید کا جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اوباما انتظامیہ کی دولت اسلامیہ سے لڑنے کی حکمت عملی ’مجموعی طور پر‘ کامیاب رہی ہے۔ بدھ کو امریکہ کے فوجی حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ شہر کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے عراقی فوج کو فضائی بمباری اور فوجی مدد فراہم کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے 60 سے زائد ممالک خطے میں امریکہ کے اتحادی ہیں۔
تاہم نیویارک پوسٹ کے عامر طاہری نے لکھا کہ دولت اسلامیہ کے خلاف نام نہاد اتحاد حقیقت سے زیادہ مبالغہ آرائی پر مشتمل ہے۔
وہ لکھتے ہیں: ’گذشتہ نو مہینوں میں ، 50 سے زائد ممالک کے اتحاد میں سے صرف چار نے فضائی کارروائی میں امریکہ کا ساتھ دیا ہے۔ اب یہ چار بھی منظر سے غائب ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
دائیں بازو کے تبصرہ نگار چارلزکراؤٹ ہیمر نے فاکس نیوز پر وائٹ ہاؤس کے ردعمل کو ’مغالطہ آمیز‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رمادی ’ایک خوفناک شکست ہے،‘ اور یہ ایک اور مثال ہے کہ دولت اسلامیہ کی پیش قدمی روکنا عراقی فوج کے بس میں نہیں ہے۔
حالیہ تنقید اسی بحث کا تسلسل ہے کہ عراق میں صورت حال کا اصل ذمہ دار کون ہے۔ اور دولت اسلامیہ کے پروان چڑھنے کا الزام کس پر عائد کیا جائے۔ کیا صدر جارج ڈبلیو بش کا عراق میں حملے کا فیصلہ اس کا ذمہ دار ہے؟ یا صدر بش کا امریکی فوجیوں کے انخلا کے معاہدے کے بعد صدر اوباما کا عراق میں امریکی فوج کے کچھ حصے کے قیام کے لیے قائل کرنے میں ناکامی؟
نیشنل انٹرسٹ رابرٹ ڈبلیو میری لکھتے ہیں: ’عراق میں کارروائی سے اقلیت سنی آبادی میں فرقہ وارانہ اختلافات پیدا ہوئے ہیں، جو خطے میں صدیوں سے غالب رہے ہیں اور امریکہ کی جانب سے شیعہ حکمران تعینات کرنے کے بعد وہ اچانک خطرات سے دوچار ہو گئے ہیں۔‘
ہفٹنگٹن پوسٹ کے اکبر شاہد احمد اور رائن گرم کے مطابق امریکی حملے کے بعد عراقی فوج کا تحلیل ہونا شام میں خانہ جنگی کے دوران دولت اسلامیہ کے پروان چڑھنے کا باعث بنا ہے۔
وہ لکھتے ہیں: ’بش انتظامیہ کی عراق میں بد انتظامی کے باعث ہزاروں ہنرمند عراقیوں نے امریکہ مخالف بغاوت میں حصہ لیا اور بالاخر وہ دولت اسلامیہ بن گئے۔‘
رپبلکن سینیٹر جان میک کین کہتے ہیں: ’رمادی میں اس لیے شکست ہوئی کیونکہ صدر فوج کے کچھ حصوں کو وہاں رکھنے میں ناکام رہے، یہ حالیہ تاریخ کا ایک شرمناک واقعہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
امیرکن تھنکر کے ڈینئل جان زسوبیسکی کہتے ہیں کہ صدر اومابا اگر چاہتے تو عراق میں امریکی فوج کے قیام کے حوالے سے کامیاب مذاکرات کر سکتے تھے۔
رپبلکن صدارتی امیدواروں کو عراق میں حملے سے متعلق سوالات کا سامنا ہے لیکن ڈیموکریٹس اور بالخصوص صدر اوباما بھی اٹھائے جانے والے ان سوالات اور اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
ڈیلی بیسٹ میں جامی ڈیٹمر لکھتے ہیں: ’دولت اسلامیہ کو جب کبھی شکست ہوتی ہے وہ دوبارہ حملہ آور ہوتے ہیں اس سے ان کے اندر دوبارہ جذبہ پیدا ہوتا ہے اور شکست کا احساس ختم ہو جاتا ہے خواہ انھیں شکست کا سامنا ہی کیوں نہ ہو۔‘
وہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے بارے میں صدر ہیری ٹرومین کی جنگ کے بارے میں کی گئی ایک تعریف کا حوالہ دیتے ہیں: ’جنگ ان تک لے کر جاؤ۔ انھیں اپنے تک مت آنے دو۔ انھیں دفاعی انداز اپنائے رکھنے دو۔‘
ٹرومین نے بلاشبہ کوریا کی جنگ میں امریکی مداخلت کا اندازہ لگا لیا تھا جس کا اختتام خون خرابے پر ہوا تھا۔
اس موقعے پر، کیا یہی صدر اوباما کے لیے بہترین ہوگا کہ وہ عراق سے کچھ امید قائم رکھیں۔ اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو وہ کس قسم کی میراث اپنے پیچھے چھوڑ کر جائیں گے؟







