کیا عراقی فوج رمادی واپس لے پائے گی؟

انبار میں گزشتہ برس سے دولت اسلامیہ اور عراقی فوج میں شدید لڑائی جاری ہے

،تصویر کا ذریعہAFP Getty Images

،تصویر کا کیپشنانبار میں گزشتہ برس سے دولت اسلامیہ اور عراقی فوج میں شدید لڑائی جاری ہے

دارالحکومت بغداد سے صرف 30 میل کے فاصلے پر واقع سنی اکثریتی صوبے انبار میں گذشتہ برس سے شدید لڑائی جاری ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار احمد ماہر نےعراقی حکومت اور دولت اسلامیہ کے درمیان جاری شدید لڑائی کے محاذ انبار کا سفر کیا۔

احمد ماہر کی آپ بیتی

کارمہ کی طرف جانے والی سڑک کے اردگرد خالی اور تباہ شدہ مکانات پر گولیوں کے نشانات، اور زمین پر بکھرےگولیوں کے خول جنگ سے ہونے والی تباہی کی کہانی سناتے ہیں۔

ہم نے ایران کی حمایت یافتہ طاقتور شیعہ ملیشیا بدر بریگیڈ کی حفاظت میں سفر کیا جسے سرکاری فوج نے صوبائی دارالحکومت رمادی کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے محاذ پر تعینات کیا ہے۔ رمادی گذشتہ اتوار کو ڈرامائی طور پر دولت اسلامیہ کے قبضے میں آ گیا تھا۔

دولت اسلامیہ نے گذشتہ اتوار کو انبار کے دارالحکومت رمادی پر قبضہ کر لیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندولت اسلامیہ نے گذشتہ اتوار کو انبار کے دارالحکومت رمادی پر قبضہ کر لیا تھا

بدر بریگیڈ کے کمانڈر باسم سلیم نے ایک نقشے کے ذریعے ہمیں کارمہ شہر کی اہمیت بتائی۔ یہ شہر بغداد اور رمادی کے درمیان واقع ہے اور یہاں شدید لڑائی کی توقع کی جا رہی ہے۔ باسم نے دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی حکومت کے خلاف قائم اتحاد کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

امریکی اتحاد نے دولت اسلامیہ کے خلاف رمادی کی جنگ میں شیعہ ملیشیا کو شامل نہ کرنے کی تنبییہ کی تھی کیونکہ ان کے خیال میں اس اقدام سے رمادی کے سنیوں میں دولت اسلامیہ کی حمایت بڑھ جائے گی۔ باسم کا کہنا تھا کہ اگر انبار میں بروقت کارروائی کی جاتی تو دولت اسلامیہ رمادی کا کنٹرول حاصل نہ کر پاتی۔

ڈیڑھ گھنٹے ڈرائیونگ کرنے کے بعد ہم اپنی منزل مشرقی کارمہ کے مضافات میں پہنچے۔ ہمیں اس گھر لے جایا گیا جہاں سرکاری فوج اور اتحادی میلشیانے کمانڈ اور مانیٹرنگ روم بنا رکھا تھا۔

کارمہ کی طرف جانے والی سڑک کے اردگرد خالی اور تباہ شدہ مکانات پر گولیوں کے نشانات، اور زمین پر بکھرےگولیوں کے خول جنگ سے ہونے والی تباہی کی کہانی سناتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکارمہ کی طرف جانے والی سڑک کے اردگرد خالی اور تباہ شدہ مکانات پر گولیوں کے نشانات، اور زمین پر بکھرےگولیوں کے خول جنگ سے ہونے والی تباہی کی کہانی سناتے ہیں

عراقی فوج کی آٹھویں بریگیڈ کے کمانڈر احمد طالبوی نے ایک کمپیوٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سے ہم باہر ٹاور پر لگے جدید کیمرے کے ذریعے دولت اسلامیہ کی نقل و حمل پر نظر رکھتے ہیں۔

ہم پھر کارمہ میں فوجی گاڑیوں کی پناہ لیتے ہوئےحکومت کی دفاعی لائن تک گئے جہاں ہمیں وارننگ دی گئی کہ ہم دولت اسلامیہ کے ہتھیاروں کی زد میں ہیں۔

ظہر کی اذان ہوتے ہی شیعہ ملیشیا کے کچھ اہلکار اپنی پوزیشنز چھوڑ کر نماز پڑھنے چلے گئے۔ دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے یہ لوگ انتہائی مذہبی ہیں۔ یہ لوگ اپنی بات چیت میں دولت اسلامیہ کا نام استعمال نہیں کرتے اور اسے ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ان کی عبادت انبار کی لڑائی جیتنے کے عزم کو پختہ کرتی ہے۔