’رمادی کو دولت اسلامیہ کے ہاتھوں میں نہیں جانے دیں گے‘

اطلاعات کے مطابق کم از کم 50 سکیورٹی اہل کاروں کو یرغمال بھی بنا لیا گیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق کم از کم 50 سکیورٹی اہل کاروں کو یرغمال بھی بنا لیا گیا

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے رمادی پر جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمادی کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ہاتھوں میں جانے نہیں دیا جائے گا۔

ادھر امریکہ نے عراقی افواج کو بھاری اسلحے اور مزید جنگی سازوسامان دینے کا وعدہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عراق کے سب سے بڑے صوبے انبار کے دارالحکومت رمادی کی اہم عمارتیں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے قبضے میں ہیں۔

عراق میں حکام کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ملک کے سب سے بڑے صوبے انبار کے دارالحکومت رمادی کی اہم سرکاری عمارت پر قبضہ کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اس اہم سرکاری عمارت کے احاطے کے باہر چھ خودکش کار بم دھماکے کرنے کے بعد اندر داخل ہوئے۔

عمارت کے احاطے میں شہر کا مرکزی پولیس سٹیشن اور گورنر کا دفتر بھی قائم ہے۔

جنگ کی وجہ سے شہریوں کو بڑے پیمانے پر وہاں سے کوچ کرتے دیکھا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجنگ کی وجہ سے شہریوں کو بڑے پیمانے پر وہاں سے کوچ کرتے دیکھا جا رہا ہے

اطلاعات کے مطابق کم از کم 50 سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بھی بنا لیا گیا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ امریکی نائب صدر جو بائڈن نے جمعے کو عراق کے وزیر اعظم حیدرالعبادی سے گفتگو کی اور انھیں بھاری اسلحے دینے کا وعدہ کیا ہے جن میں شانے پر رکھ کر چلایا جانے والا راکٹ لانچر اور مزید گولے بارود کے علاوہ عراقی فوجیوں کے لیے سپلائیز شامل ہیں۔

دولت اسلامیہ نے رات میں اس کمپاؤنڈ میں خودکش کار بموں سے حملہ کیا جس میں کم از کم 10 پولیس اہل کار ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔

رمادی عراق کے سب سے بڑے صوبے انبار کا دارالحکومت ہے اور اس شہر پر قبضے کے لیے دولت اسلامیہ اور عراقی فوجوں کے درمیان کئی ماہ سے شدید لڑائی جاری رہی تھی۔

صوبہ انبار میں سنّی آبادی اکثریت میں ہے اور اس کی سرحدیں ایک طرف شام سے اور دوسری طرف عراقی دارالحکومت بغداد سے ملتی ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصوبہ انبار میں سنّی آبادی اکثریت میں ہے اور اس کی سرحدیں ایک طرف شام سے اور دوسری طرف عراقی دارالحکومت بغداد سے ملتی ہیں

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار احمد مہر کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے رمادی کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا اور صوبہ انبار کے نصف علاقے ان کے کنٹرول میں ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایک پولیس افسر کے حوالے سے بتایا ہے ’دولتِ اسلامیہ نے رمادی کے وسط میں سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور صوبے میں پولیس کے ہیڈ کوارٹر پر اپنی تنظیم کا جھنڈا لہرا دیا ہے۔‘

دولتِ اسلامیہ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں سرکاری احاطے پر قبضہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ عراق کی سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی شیعہ ملیشیا نے سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرایا تھا جس پر دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ سال جون میں قبضہ کر لیا تھا۔

جوبائیڈن نے عراقی فوج کو مزید اسلحے اور گولے بارود دینے کا وعدہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجوبائیڈن نے عراقی فوج کو مزید اسلحے اور گولے بارود دینے کا وعدہ کیا ہے

اس کامیابی کے بعد عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے صوبہ انبار کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’ہماری اگلی جنگ انبار کی سرزمین پر ہو گی اور اسے مکمل طور پر آزاد کرایا جائے گا۔‘

صوبہ انبار میں سنّی آبادی اکثریت میں ہے اور اس کی سرحدیں ایک طرف شام سے اور دوسری طرف عراقی دارالحکومت بغداد سے ملتی ہیں۔

اس صوبے کے اکثر شہروں اور دیہاتوں پر دولتِ اسلامیہ یا دیگر شدت پسندوں گروہوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔

عراقی حکومت کے لیے ایک وسیع صوبے کو دولتِ اسلامیہ سے نکالنا ایک بڑا چلینج ہو گا تاہم حکومت تکریت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کامیابی کے تسلسل کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔