دولتِ اسلامیہ کا عراقی شہر رمادی پر حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty
عراق میں حکام کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے عراق کے مغربی شہر رمادی پر حملے تیز کرتے ہوئے وہاں بم دھماکوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
عراقی صوبے انبار کی کونسل کے رکن اصل الفہداوی نے کہا ہے کہ حکومتی کمپاؤنڈ دولتِ مشترکہ کے ہتھیاروں کی رینج میں آنے سے شہر کو ’شدید خطرہ‘ لاحق ہو گیا ہے۔
عراق کے مغربی شہر رمادی اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں بڑھتے ہوئے تشدد کے بعد گذشتہ ہفتے سینکڑوں افراد شہر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔
شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے بدھ کو رمادی کے دور دراز کے تین گاؤں پر قبضہ کر لیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے قبضہ کیے جانے والے تین میں سے ایک گاؤں کے نو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
کرد ویب سائٹ روودا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار پولیس اہل کار تھے۔
عراقی صوبے انبار کی کونسل کے رکن اصل الفہداوی نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے متعدد خود کش بمباروں نے بدھ کی رات اور جمعرات کی صبح حکومتی عمارتوں اور چیک پوائنٹس کو نشانہ بنایا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ عراقی فوجی اور مسلح قبائلی دولتِ اسلامیہ کو حکومتی کمپاؤنڈ میں جہاں صوبائی حکومت اور سکیورٹی ہیڈ کوارٹرز قائم ہیں داخل ہونے سے روکنے میں کامیاب رہے ہیں اس کے باوجود حکومتی کمپاؤنڈ دولتِ مشترکہ کے ہتھیاروں کی رینج میں آ گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اصل الفہداوی نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتِ حال کے بعد رمادی شہر اور حکومتی کمپاؤنڈ کو ’شدید خطرہ‘ لاحق ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ عراقی وزارتِ داخلہ نے رمادی میں ’ارجنٹ رسپانس یونٹ‘ کو بھیج دیا ہے تاہم یہ اضافی کمک شدت پسندوں کو دھکیلنے کے لیے ناکافی ہے۔
عراق کے سکیورٹی حکام نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا امریکی اتحاد میں شامل طیاروں نے بدھ کو دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
عراق کی وزارتِ ہجرت کے ایک اہل کار ستار نوروز نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ رمادی میں جاری لڑائی کی وجہ سے 2,000 سے زائد خاندان اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ عراقی فوج نے رواں ماہ کے آغاز میں تکریت شہر کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروا لیا تھا جس پر دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ سال جون میں قبضہ کر لیا تھا۔
اس کامیابی کے بعد عراق کے وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا ’ ہم تکریت کی طرح انبار میں بھی فتح یاب ہوں گے۔‘







