’دولت اسلامیہ سے ایک چوتھائی علاقہ چھڑا لیا گیا ہے‘

،تصویر کا ذریعہCANADIAN ARMED FORCES
امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ گذشتہ آٹھ مہینوں میں امریکی فضائی حملوں اور عراق کی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ علاقوں میں سے چھ ہزار مربع میل کے علاقے کو خالی کروا لیاگیا ہے۔
عراقی وزیر اعظم حیدر العابدی کی امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات سے قبل پینٹاگون کے ترجمان کرنل وارن نے کہا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دولت اسلامیہ کےخلاف ایک لہر چل پڑی ہے لیکن یہ واضح ہے کہ ان کا اثر کم ہوا ہے اور اب وہ عراق میں چھ لاکھ مربع میل کا علاقہ کھو چکی ہے۔
البتہ ترجمان نے واضح کیا کہ شام میں دولت اسلامیہ کے قبضے میں علاقہ تقریباً اب بھی وہی ہے جو فضائی کارروائیاں شروع کرنے سے پہلے تھا۔
دولت اسلامیہ نے2014 میں شام سے نکل کر عراق کے شمالی علاقوں پر بڑی سرعت سے قبضہ کر لیا تھا۔
کرنل وارن نےایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ عراق میں دولت اسلامیہ کے قبضے میں علاقے کا تقریباً 25 سے30 فیصد حصہ ان کے کنٹرول سے نکل گیا ہے۔
کرنل وارن نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ پر کاری ضرب لگی ہے اور اسے کسی حد پیچھے دھکیل دیاگیا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی گذشتہ کئی ماہ سے دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہے ہیں۔
پینٹاگون کی ویب سائٹ پر جاری ایک نقشے میں دکھایا ہے کہ دولت اسلامیہ کو اربیل، بابل، بغداد اور کرکوک کے صوبوں میں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
کرنل وارن نےکہا ہے کہ تکریت کے شمال میں بڑے علاقے کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے چھڑا لیا گیا ہے اور تکریت کا پورا شہر جلد ہی خالی کروا لیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ باجی قصبے اور اس کے قریب تیل کے کارخانے کے قریبی علاقے پر قابض رہنے کی کوششیں جاری ہیں اور اتحادی افواج وہاں اپنی فضائی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
عراق جانے سے پہلے عراق کے وزیر اعظم حیدر العابدی نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اتحادی افواج دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیوں میں اضافہ کریں۔
حیدر العابدی نے پچھلے ہفتے اعلان کیا تھا وہ ملک کہ بڑے صوبے انبار کو شدت پسندوں سے آزاد کروانے کے لیے جلد کارروائی شروع کرنے والے ہیں۔







