شام: دولت اسلامیہ کے جنگجو فلسطینی کیمپ میں داخل

،تصویر کا ذریعہ
فلسطینی حکام اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو دمشق کے یرموک کیمپ میں داخل ہوگئے ہیں جہاں فلسطینی مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں اور کیمپ کے اندر موجود گروہوں کے درمیان لڑائی ہوتی رہی جس کے بعد دولتِ اسلامیہ نے کیمپ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق یرموک کیمپ تقریباّ 18 ہزار فلسطینی پناہ گزین موجود ہیں۔
واضح رہے کہ دولت، اسلامیہ کے جنگجو مشرقی شام اور عراق کے شمالی اور مغربی حصوں میں ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر چکے ہیں۔
یرموک کیمپ میں لڑائی کے عینی شاہدین اور ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو کیمپ کی نواحی بستی ہجرِ اسود کے راستے کیمپ میں داخل ہوئے۔
برطانیہ میں مقیم انسانی حقوق کی تنظیم ’سیرین آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ کا کہنا ہے کہ اب دولتِ اسلامیہ ’کیمپ کے بڑے حصوں پر قابض ہو چکی ہے۔‘
دوسری جانب دمشق میں مقیم تحریکِ آزادی فلسطین سے منسلک ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’کیمپ کے بڑے حصے‘ پر اب دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہو چکا ہے۔
یرموک کیمپ پہلی مرتبہ سنہ 148 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد تعمیر کیاگیا تھا جہاں اس وقت جنگ سے متاثر ہونے والی فلسطینیوں کو پناہ دی گئی تھی اور ماضی میں اس کیمپ کو عملی طور پر بیرونِ ملک مقیم فلسطینی مہاجرین کا دارالحکومت سمجھا جاتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن سنہ 2012 سے جاری شامی فوجوں اور باغیوں کے درمیان لڑائیوں کے بعد سے یہ کیمپ لڑائی میں گھرا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کا کہنا ہے کہ اب تقریباً 18 ہزار مہاجرین اس کیمپ میں پھنسے ہوئے ہیں اور یہ لوگ خوراک، صاف پانی اور بجلی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔
مارچ میں ادارے نے کہا تھا کہ ’شام میں جاری مسلح تصادم کی وجہ سے فلسطینی مہاجرین کو یرموک کیمپ اور شام میں دیگر مقامات پر جن شدید مشکلات کا سامنا ہے وہ انسانی نکتۂ نظر سے ایک ناقابلِ قبول صورتحال ہے۔








