’دولتِ اسلامیہ یزیدیوں کی نسل کشی کر رہی ہے‘

یزیدی ایک قدیم عقیدے پر قائم ہیں جسے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند شیطان کی عبادت کرنا سمجھتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیزیدی ایک قدیم عقیدے پر قائم ہیں جسے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند شیطان کی عبادت کرنا سمجھتے ہیں

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی جانب سے یزیدی اقلیت کے قتلِ عام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اُن کی نسل کشی کرنا چاہتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ یزیدیوں کو ایک گروہ سمجھتے ہوئے انھیں تباہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ہزاروں یزیدی گذشتہ موسمِ گرما میں دولتِ اسلامیہ کی شمالی عراق کی جانب پیش قدمی کی وجہ سے اپنے دیہات چھوڑ کر چلے گئے تھے، جن میں سے بہت سے یا تو مارے گئے تھے یا انھیں قید کر لیا گیا تھا۔

یزیدی ایک قدیم عقیدے پر قائم ہیں جسے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند شیطان کی عبادت کرنا سمجھتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی یہ رپورٹ ایک سو سے زیادہ لوگوں کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جوگذشتہ سال جون سے فروری 2015 تک عراق میں ہونے والے حملوں میں بچ گئے تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یزیدی آبادی والے کچھ دیہات مکمل طور پر خالی ہو گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں ایک عینی شاہد نے بتایا کہ کیسے دولتِ اسلامیہ میں شامل دو افراد اس وقت ہنس رہے تھے جب ساتھ والے کمرے میں دو نوجوان لڑکیوں کا ریپ کیا جا رہا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے ایک ڈاکٹر نے ایک حاملہ عورت کا کئی بار ریپ کیا اور اس کے پیٹ پر یہ کہہ کر جان بوجھ کر بیٹھ گیا کہ اس بچے کو مرنا ہو گا کیونکہ یہ بچہ کافر ہے اس کی جگہ مسلمان بچہ پیدا ہونا چاہیے۔

یزیدیوں کی حالتِ زار کا علم دنیا کو اس وقت ہوا جب دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ برس سنجار کے علاقے پر قبضہ کیا تھا۔

سنجار کے ہزاروں رہائشیوں کو وہاں سے نکلنے کے لیے مجبور کر دیا گیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر یزیدی تھے۔