دولت اسلامیہ نے350 ایزیدی رہا کر دیے

،تصویر کا ذریعہReuters
شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ نے شمالی عراق میں 350 بوڑھےاور بیمار ايزيدي باشندوں کو رہا کر دیا ہے۔
داعش نے پچھلے برس شمالی عراق میں وسیع علاقوں پر قبضہ کرنے کے دوران ہزاروں ایزیدی باشندوں کو ہلاک اور قید کر لیا تھا۔
اسی سالہ ایک ایزیدی نے خبر رساں روائٹرز کو بتایا کہ جب انھیں بسوں میں سوار ہونے کا حکم دیا تو انھیں ڈر تھا کہ انھیں ہلاک کرنے کے لیے لے جایا جا رہا ہے لیکن ان کے خدشات کے برعکس شدت پسند نے انھیں ہویجا کی چیک پوسٹ پر لا کر انھیں رہا کر دیا۔
کرد فوجی پیشمرگا نے رہا ہونے والے ایزیدی لوگوں کو انھیں اپنی تحویل میں لے کے کرکوک پہنچا دیا ہے۔بعض کو فوراً ہسپتال لے جایاگیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ان تمام لوگوں کو موصل شہر میں رکھا گیا تھا۔
انسانی حقوق کےاداروں کے خیال میں دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں نے ہزاروں ایزیدی لوگوں کو اغوا کر رکھا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ مغوی ایزیدی خواتین کو ہولناک جنسی تشدد‘ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے ایزیدی لوگوں کو کیوں رہا کیا ہے۔
انسانی حقوق کے ورکر خودر دوملی نے خبررساں ادارے روائٹر کو بتایا کہ ’رہا ہونے میں کچھ زخمی ہیں، کچھ معذور اور کچھ ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
بغداد میں بی بی سی کی رامی روحیم نے بتایا کہ کئی مغویوں کو ڈر تھا کہ انھیں ہلاک کرنے کے لیے بسوں میں لے جایا رہا ہے۔
ویل چیر میں بیٹھے ایک بوڑھے ایزیدی شخص نے کہا کہ انھوں مہینوں قید میں رکھا گیا ہے۔







