عراقی فوج نے تکریت میں دولتِ اسلامیہ کو شکست دے دی

عراقی فوج

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنعراقی فوج بدھ کی صبح تکریت کے مرکز سے تیس میٹر دور تھی

عراقی حکومت کے مطابق اس کی فوج شمال مغربی شہر تکریت میں ایک ماہ کے محاصرے کے بعد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست دے دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شہر میں چند ایک دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں تاہم ملک کے سرکاری ٹی وی پر وزیراعظم حیدر العبادی کو قومی پرچم کے ساتھ شہر کی سڑکوں پر چہل قدمی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

عراقی سکیورٹی فورسز کے مطابق تکریت پر دوبارہ کنٹرول حاصل ہونے سے ملک کے دوسرے بڑے شہر موصل سے دولتِ اسلامیہ کو نکالنے کی راہ ہموار ہو جائے گا۔

اس سے پہلے عراقی وزیراعظم نے تکریت میں آمد سے قبل انھوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ صدام حسین کے آبائی شہر تکریت کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے’آزاد‘ کرا لیا گیا ہے۔ حالانکہ اس وقت کی اطلاعات کے مطابق شہر کے مرکزی علاقے میں لڑائی جاری تھی۔

فوجی حکام نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مرکزی علاقے اور سرکاری املاک سمیت شہر کے 75 فیصد حصے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

عراقی فوج اور اسی کی اتحادی شیعہ ملیشیا نے مارچ کے پہلے ہفتے میں تکریت میں کارروائی کا آغاز کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعراقی فوج اور اسی کی اتحادی شیعہ ملیشیا نے مارچ کے پہلے ہفتے میں تکریت میں کارروائی کا آغاز کیا تھا

مارچ کے پہلے ہفتے سے فوج اس کے اتحادی قبائل اور شیعہ ملیشیا نے تکریت پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کارروائی شروع کی تھی۔

گذشتہ موسم گرما میں دولتِ اسلامیہ نے تکریت پر قبضہ کر لیا تھا۔

تکریت کی جنگ میں تقریباً 3000 عراقی فوجی شامل ہیں جن کو ایران کی حمایت یافتہ شعیہ ملیشیا کے 20000 ہزار اہلکاروں کی مدد بھی حاصل ہے۔

شیعہ ملیشیا نے گذشتہ ہفتے شہر پر امریکی فضائی حملوں کے بعد احتجاجاً جنگ سے الگ ہو گئی تھی تھی تاہم بعد میں دوبارہ شامل ہو گئی۔

بدھ کو صوبہ صلاح الدین کے ڈپٹی گورنر عمار حکمت کا کہنا تھا کہ’فوج صدارتی محل کے بعض حصوں میں داخل ہو چکی ہے اور ان کے خیال میں 24 گھنٹوں میں ان کا شہر پر کنٹرول ہو گا۔‘

تکریت

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنتکریت عراق کے سابق صدر صدام حسین کا آبائی شہر ہے

تکریت پر سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ چھڑانے کے لیے عراقی فوج اور شیعہ ملیشیانے 2 مارچ سے کارروائی کا آغاز کیا تھا اور اتحادیوں کی فضائی مدد حاصل نہ ہونے کے باوجود بڑی تیزی سے پیش قدمی کی تھی تاہم شہر کے مرکز میں دولتِ اسلامیہ کی جنگی رکاوٹوں کی وجہ سے پیش قدمی دھیمی پڑ گئی تھی۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند اس وقت عراق اور شام میں بڑے علاقے پر قابض ہیں جن میں عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل بھی شامل ہے۔

امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔