’دولتِ اسلامیہ کے خلاف صوبہ انبار میں بھی فتح یاب ہوں گے‘

اس وقت عراقی سکیورٹی فورسز کی انبار میں کارروائیاں جاری ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس وقت عراقی سکیورٹی فورسز کی انبار میں کارروائیاں جاری ہیں

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے ملک کے سب سے بڑے صوبے انبار کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

عراقی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق’ ہماری اگلی جنگ انبار کی سرزمین پر ہو گی اور اسے مکمل طور پر آزاد کرایا جائے گا۔‘

عراقی سکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی کے مشرق میں سکیورٹی فورسز دولتِ اسلامیہ سے لڑائی کر رہی ہیں۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو رمادی کے مشرق میں سجاریہ کے علاقے میں دھکیل دیا گیا ہے۔

عراق میں گذشتہ ہفتے ہی سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی شیعہ ملیشیا نے سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرایا تھا۔ دولتِ سالامیہ نے گذشتہ سال جون میں اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔

صدر حیدر العبادی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے سرکاری صفحے پر لکھا ہے:’ ہم تکریت کی طرح انبار میں بھی فتح یاب ہوں گے۔‘

تکریت میں عراقی فوج نے شیعہ ملیشیا کی مدد سے دولتِ اسلامیہ کو شکست دی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP Getty Images

،تصویر کا کیپشنتکریت میں عراقی فوج نے شیعہ ملیشیا کی مدد سے دولتِ اسلامیہ کو شکست دی تھی

صوبہ انبار میں سنّی آبادی اکثریت میں ہے اور اس کی سرحدیں ایک طرف شام سے اور دوسری طرف عراقی دارالحکومت بغداد سے ملتی ہیں۔

اس صوبے کے اکثر شہروں اور دیہاتوں پر دولتِ اسلامیہ یا دیگر شدت پسندوں گروہوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔

صوبے کے اہم شہر فلوجہ پر اس وقت دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہے اور اس وقت سکیورٹی فورسز نے شہر کا تین اطراف سے محاصرہ کر رکھا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بغداد کے جنوبی علاقوں سے صوبے میں اضافی فوجی اور شیعہ ملیشیا کے جنگجو بھیجے جا رہے ہیں

صوبے میں سنّی آبادی کی اکثریت ہونے کی وجہ سے یہاں شیعہ ملیشیا کا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے تاہم یہاں حکومت مقامی سنّی قبائلیوں کو بھی مسلح کر رہی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جم میئور کے مطابق ماضی میں بھی فلوجہ کو آزاد کرانے کی ناکام کوششیں ہو چکی ہیں جبکہ ایک وسیع صوبے کو دولتِ اسلامیہ سے نکالنا ایک بڑا چلینج ہو گا تاہم حکومت تکریت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کامیابی کے تسلسل کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔