عراق پھر فرقہ واریت کی لپیٹ میں

،تصویر کا ذریعہAFP
عراق میں چھ برس تک جاری رہنے والی فرقہ وارانہ جنگ کی شدت کم ہونے کے بعد عراقی عوام کے درمیان اس بات پر اختلاف رائےعام ہے کہ ملک کی حالیہ تاریخ بیرونی دنیا کو کس نظریے سے بتائی جائے۔
دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے دوستوں سے غیر رسمی بات چیت کرنے پر یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ دونوں اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ بیرونی میڈیا کی جانب سے کی گئی رپورٹنگ نے اس بحران کی جلتی پر تیل چھڑکا ہے۔ یہ اس لیے کہ دونوں فریق سمجھتے ہیں کہ ان کی کہانی ان کے نظریے سے بیان کی جائے۔
گذشتہ چند ہفتوں میں عراق سے رپورٹنگ کرنے پر اس بات کا احساس ہوا ہے کہ عراق کے بارے میں جب بھی یہ بات کی جائے کہ ہم حقائق پر مبنی اور غیر جانبدار رپورٹنگ کریں گے تو وہاں کے لوگوں کا شک کرنا لازمی ہے ۔ چاہے ان کے پاس اس بات کے کوئی پختہ شواہد ہوں یا نہیں۔
مجھے اس طرح کی دشواری کا سامنا تب بھی ہوا جب میں نے دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ کو کور کیا تھا۔
عراق میں جو جہادی گروپ ہیں ان میں عراقی سنیوں کا غلبہ ہے۔ اس کے علاوہ انھیں عرب ممالک اور مغربی ممالک سے مذہب تبدیل کر کے آنے والے سنیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔
دولت اسلامیہ شعیہ ملیشیا اور جہادیوں کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہے۔ اس ملیشیا میں عراقی فوج کے وہ فوجی بھی شامل رہے ہیں جو گذشتہ موسم گرما میں دولت اسلامیہ کے ہاتھوں کے شکست کے بعد بچ گئے تھے۔
مجھے تکریت میں فرنٹ لائن پر ایک ملیشیا کی حفاظت میں جانے کا موقع ملا۔ وہاں جا کر جب میں نے انگریزی میں رپورٹنگ کی تو کہیں سے کوئی ردعمل نہیں آیا، لیکن جیسے ہی میں نے عربی زبان میں رپورٹنگ کی، لوگوں نے فوراً اپنی اپنی رائے دینا شروع کر دی۔
ایک ناراض جہادی نے مجھے رپورٹنگ کرتے سن کر کہا: ’آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ دولت اسلامیہ کے نام سے جانے جانے والا گروپ، آپ صاف کہیں شدت پسند داعش۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا مزید کہنا تھا: ’یہ وہ سنی شدت پسند ہیں جنھوں نے کئی سو شیعہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہم امام علی کو ماننے والے ہیں۔ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم ان کو، ان کے حمایتیوں اور ان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والوں کو نیست و نابود کر دیں گے۔‘
ایک اور کمانڈر، جو یہ سب دیکھ رہا تھا اس نے مجھے ’دولت اسلامیہ کے اصل معنی سکھانے‘ کی دھمکی دی۔ اتنے میں ان کے دیگر ساتھی اپنی بندوقیں تان کر چیخنے لگے: ’جان سے مارو اسے، جان سے مارو، یہ جاسوس ہے۔‘ شکر ہے کہ اس موقعے پر ہمیں یہاں اپنے ساتھ لانے والے لوگ وہاں پہنچ گئے اور صورت حال کو قابو میں کر لیا۔
دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ عراق میں فرقہ پرستی میں اضافہ ہوا ہے۔
گذشتہ برس جنوری سے اب تک دولت اسلامیہ نے ملک کی شیعہ اکثریت والی حکومت پر امتیازی سلوک کا الزام لگانے والے سنی شدت پسندوں کی مدد سے عراق کے متعدد علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
عراق میں جن سنی افراد سے میری ملاقات ہوئی، ان میں سے بیشتر دولت اسلامیہ کو مسترد کرتے ہیں۔ لیکن انھیں دولت اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کیے جانے والے سنی علاقوں میں لہراتے ہوئے شیعہ پرچموں اور نعروں نے محتاط کیا ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شعیہ ملیشیا کی جانب کی جانے والی ہلاکتوں اور اذیتوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ ان میں سے بیشتر الزامات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایک سنی شخص نے مجھے بتایا: ’میں نے سوشل میڈیا پر خود وہ ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں صلاح الدین صوبے میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیاں ہوتے دیکھی جا سکتی ہیں۔ میں آپ کی رپورٹ کو بہتر بنانے کے لیے ان ویڈیوز کو پیش کر سکتا ہوں۔‘
میں نے اس شخص کو بتایا کہ میں نے اپنی رپورٹوں میں ان الزامات کی بات کہی ہے لیکن ان کی تصدیق ہونا مشکل ہے۔ لیکن اسے یقین نہیں آیا۔
میں نے بہت کوشش کی مجھے کوئی ایسے سنی خاندان مل جائیں جو مجھ سے شیعہ ملیشیا کے ہاتھوں ہونے والے تشدد کے بارے میں بات کریں، چاہے اپنی شناخت نہ بتائیں، لیکن مجھے کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
بی بی سی کے مقامی رپورٹر نے مجھے بتایا: ’میڈیا سے بات کرنے کی جرت کوئی نہیں کرتا۔ اس کی انھیں بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، ہوسکتا ہے انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑ جائیں۔‘
عراقی اس فرقہ وارانہ جنگ سے تھک چکے ہیں۔ سنہ 2006 کے بعد ہونے والی خونریز خانہ جنگی کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے اور لاکھوں اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAP
دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ نے لوگوں کو خاص طور سے اقلیتیوں کو ایک بار پھر گھر چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔
عراق میں آج بھی وقتاً فوقتاً بم دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔ حملہ آوروں کا پسندیدہ طریقہ کار بم دھماکہ ہے، اور جب دھماکے کرتے ہیں تو چند ہی گھنٹوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں ایک ساتھ سلسلہ وارانہ دھماکے ہوتے ہیں۔
بغداد میں ایک چرچ کے پادری کےمحر فواد کا کہنا ہے: ’بہت سے عراقیوں کو امید تھی کہ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد تشدد کم ہو جائے گا اور زندگی واپس معمول پر آ جائے گی، لیکن دولت اسلامیہ کےعروج کے بعد حالات مزید خراب ہوئے ہیں اور شدت پسند دھماکے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔‘







