امریکہ: ’عراقی شہری کے قتل کی وجہ نفرت نہیں‘

الجمائلی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک کار پارک میں برفباری کی تصویریں بنا رہے تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنالجمائلی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک کار پارک میں برفباری کی تصویریں بنا رہے تھے

امریکی ریاست ٹیکسس کے شہر ڈیلس میں پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو ایک عراقی شہری پر گولی چلانے کے الزام میں رفتار کیا ہے، تاہم اس بات سے انکار کیا ہے کہ یہ واقعہ نفرت پر مبنی جرم تھا۔

پولیس کے مطابق 17 سالہ نائیکیراون نیلون نے احمد الجمائلی کو پانچ مارچ کو گولی کا نشانہ بنایا جو اگلے روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور اس بات کا انتقام لے رہا تھا کہ کسی نے اس کی گرل فرینڈ کے اپارٹمنٹ پر گولیاں چلائی تھیں۔

الجمائلی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک کار پارک میں برفباری کی تصویریں بنا رہے تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ برف گرتے ہوئے دیکھی تھی۔

ڈیلس پولیس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یہ واقعہ نفرت پر مبنی جرم نہیں ہے لیکن پھر بھی تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزم نے اپنی بندوق سے 15 گولیاں چلائیں۔ ملزم کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ کہیں یہ واقعہ کسی گینگ کے ہاتھوں ہونے والے جرم سے متعلق تو نہیں۔

17 سالہ نائیکیراون نیلون نے احمد الجمائلی کو پانچ مارچ کو گولی کا نشانہ بنایا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن17 سالہ نائیکیراون نیلون نے احمد الجمائلی کو پانچ مارچ کو گولی کا نشانہ بنایا

جب گولیاں چلیں تو عراقی نژاد الجمائلی اپنے اپارٹمنٹ کی طرف بھاگے لیکن گولی کا نشانہ بن گئے۔ انھیں زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ اگلے روز انتقال کر گئے۔

واقعے کے چند روز بعد ایک قریبی سکول میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج جاری کی گئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موقعے سے چار افراد فرار ہو رہے ہیں جن میں سے ایک شخص کے ہاتھوں میں بندوق ہے۔

پولیس نے ایک عینی شاہد کی مدد سے نیلون کی عرفیت کا پتہ چلایا جس سے جرم کی گتھیاں سلجھانے میں مدد ملی۔

پولیس کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے نیلون نے اعتراف کیا کہ وہ وہاں موجود تھے جہاں جرم ہوا لیکن کہا کہ گولی انھوں نے نہیں بلکہ موقعے پر موجود ایک دوسرے شخص نے چلائی تھی۔

مرنے والے کے اہلِ خانہ کہتے ہیں کہ گولی کا نشانہ بننے والے الجمائلی عراق سے اس لیے امریکہ آئے تھے کہ تشدد سے محفوظ رہ سکیں اور ٹیکسس میں اپنی اہلیہ کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں، لیکن تین ہفتوں کے اندر اندر انھیں ہلاک کر دیا گیا۔

اس واقعے کے بعد ڈیلس کی مسلمان برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ شاید عراقی شہری کو جان بوجھ کر نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ فروری میں شمالی کیرولائنا کے علاقے چیپل ہِل میں تین مسلمان طالب علموں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں پولیس نے کہا تھا کہ ابتدائی تفتیش ظاہر کرتی ہے کہ یہ قتل پارکنگ کے جھگڑے کی وجہ سے پیش آیا لیکن تحقیقات ہو رہی ہیں کہ آیا تین مسلمان طالب علموں کا قتل کہیں مذہبی نفرت پر مبنی واقعہ تو نہیں تھا۔