چیپل ہل قتل ظالمانہ اور شرمناک فعل ہے: براک اوباما

صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ میں کسی بھی انسان کو صرف اس لیے نہیں قتل کیا جانا چاہیے کہ ’وہ بظاہر کیسا دکھتا ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنصدر اوباما نے کہا کہ امریکہ میں کسی بھی انسان کو صرف اس لیے نہیں قتل کیا جانا چاہیے کہ ’وہ بظاہر کیسا دکھتا ہے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے چیپل ہل میں تین مسلمان طلبا کے قتل کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’ظالمانہ اور شرمناک‘ اقدام قرار دیا ہے۔

یہ بیان میں صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ میں کسی بھی انسان کو صرف اس لیے نہیں قتل کیا جانا چاہیے کہ ’وہ بظاہر کیسا دکھتا ہے‘ یا ’وہ کس طرح عبادت کرتا ہے۔‘

ان کا یہ بیان ترکی کے صدر رجب طیب ادوغان کی جانب سے تنقید کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے اس واقعے پر امریکی صدر کے خاموشی کو نشانہ بنایا تھا۔

تینوں طلبا کا کے قتل کے الزام میں ایک شخص حراست میں ہے اور اس حوالے سے تفتیش جاری ہے کہ آیا اس قتل کا محرک نفرت تھی یا نہیں۔

اس واقعے کی تفتیش ایف بی آئی بھی کر رہی ہے۔

پولیس کے مطابق وہ تفتیش میں ہر پہلو کا جائزہ لے رہی ہے جس میں نفرت کی وجہ سے قتل بھی شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق وہ تفتیش میں ہر پہلو کا جائزہ لے رہی ہے جس میں نفرت کی وجہ سے قتل بھی شامل ہے۔

اس سے قبل ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں تین مسلم طلبہ کے قتل پر امریکی صدر براک اوباما کی خاموشی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا سیاستدان اپنے ملک میں ہونے والے واقعات کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور انھیں ان پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔

23 سالہ ضیا برکت کو ان کی اہلیہ 21 سالہ یسر محمد اور خواہرِ نسبتی 19 سالہ رزان محمد کے ہمراہ چیپل ہل میں واقع ان کی رہائش گاہ پر منگل کو قتل کیا گیا تھا اور جمعرات کو ان کے جنازوں میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد شریک ہوئے۔

پولیس نے اس قتل کے الزام میں مقتولین کے ہمسائے 46 سالہ کریگ سٹیون ہکس نامی شخص کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ مقتولین کا اپنے اس ہمسائے کے ساتھ پارکنگ کے معاملے پر تنازع چل رہا تھا جس نے انھیں قتل کیا، تاہم جمعرات کو جنازے کے موقع پر مقامی پولیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ پولیس ہر پہلو کا جائزہ لے گی جس میں نفرت کی وجہ سے قتل بھی شامل ہے۔

سیاستدان ہم اپنے ملک میں ہونے والی ہر چیز کے لیے ذمہ دار ہیں: اردوغان

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسیاستدان ہم اپنے ملک میں ہونے والی ہر چیز کے لیے ذمہ دار ہیں: اردوغان

مسلمان طلبہ کے قتل کے بارے میں دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر بھی بحث ہوئی ہے اور #ChapelHillShooting کا ہیش ٹیگ نہ صرف برطانیہ بلکہ امریکہ، پاکستان، مصر، سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں ٹرینڈ کرتا رہا ہے۔

دورۂ میکسیکو کے دوران اپنے ایک خطاب میں ترک صدر نے امریکی صدر اوباما، نائب صدر جو بائیڈن اور وزیرِ خارجہ جان کیری پر اس واقعے کے بارے میں بیان نہ دینے پر تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ اس قسم کے واقعے پر خاموش رہتے ہیں اور کوئی بیان نہیں دیتے تو دنیا بھی آپ کی حمایت میں نہیں بولے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بطور سیاستدان ہم اپنے ملک میں ہونے والی ہر چیز کے لیے ذمہ دار ہیں اور ہمیں اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔‘

جمعرات کو ان تین مقتولین کے جنازے اس شمالی کیرولائنا سٹیٹ یونیورسٹی کے میدان میں ہوئے جہاں یہ تینوں زیرِ تعلیم تھے۔

پولیس کے اندازوں کے مطابق 5500 افراد ان جنازوں میں شریک ہوئے۔

مقتولین کے جنازوں میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد شریک ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمقتولین کے جنازوں میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد شریک ہوئے۔