رمادی کی لڑائی میں مدد کے لیے امریکی ٹینک شکن میزائل

امریکی فضائیہ رمادی کی لڑائی کے دوران عراقی شیعہ ملیشیا کو بھی مدد فراہم کرے گی بشرطیکہ وہ حکومتی کمان میں جنگ لڑ رہی ہو
،تصویر کا کیپشنامریکی فضائیہ رمادی کی لڑائی کے دوران عراقی شیعہ ملیشیا کو بھی مدد فراہم کرے گی بشرطیکہ وہ حکومتی کمان میں جنگ لڑ رہی ہو

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ عراقی شہر رمادی کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروانے کی جنگ میں مدد کے لیے ایک ہزار ٹینک شکن میزائل فراہم کرے گی۔

دولتِ اسلامیہ نے اتوار کو صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی پر قبضہ کیا تھا اور عراقی حکومت ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کی مدد سے اس شہر کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔

<link type="page"><caption> کیا عراقی فوج رمادی واپس لے پائے گی؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/05/150520_anbar_iraq_ads" platform="highweb"/></link>

امریکی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ٹینک شکن میزائل بارود سے بھری ان بڑی گاڑیوں کو تباہ کرنے کے کام آئیں گے جنھیں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شہر پر چڑھائی کے دوران استعمال کیا تھا۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی فضائیہ اس لڑائی کے دوران عراقی شیعہ ملیشیا کو بھی مدد فراہم کرے گی بشرطیکہ وہ حکومتی کمان میں جنگ لڑ رہی ہو۔

خیال رہے کہ منگل کو امریکہ کی قومی سلامتی کونسل نے بھی کہا تھا کہ وہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ انبار میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے والی زمینی فوج کی ’مدد کا بہترین طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔‘

کونسل کے ترجمان الیسٹر باسکی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ممکنہ اقدامات میں ’مقامی قبائلیوں کی جلد از جلد تربیت اور انھیں مسلح کرنا بھی شامل ہے تاکہ رمادی کا قبضہ واپس لینے کے عراقی آپریشن کی مدد کی جا سکے۔‘

عراقی حکومت نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ سے صوبہ انبار کے دارالحکومت<link type="page"><caption> رمادی کا قبضہ واپس لینے کی لڑائی میں رضاکارانہ طور پر شرکت کریں۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/05/150520_iraq_ramadi_volunteers_zs" platform="highweb"/></link>

عراقی حکام نے انبار سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو دریائے فرات عبور کر کے بغداد میں داخل ہونے کی اجازت دی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعراقی حکام نے انبار سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو دریائے فرات عبور کر کے بغداد میں داخل ہونے کی اجازت دی

عراقی کابینہ نے ایک بیان میں عالمی برادری اور اپنے ہمسایہ ممالک سے بھی کہا کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں حکومتِ عراق کی مدد کریں۔

اس ضمن میں اسلحے کی فراہمی کے علاوہ جنگ کے بعد علاقے کی تعمیرنو کے لیے فنڈز کی فراہمی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

ادھر عراقی حکومت نے انبار میں جاری لڑائی کی وجہ سے بےگھر ہونے والے افراد کو دارالحکومت بغداد میں داخل ہونے کی اجازت بھی دے دی ہے۔

رمادی پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے کے بعد سے انبار سے 40 ہزار سے زیادہ افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

ان میں سے بیشتر افراد کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور تھے اور متعدد افراد کی پانی کی کمی کی وجہ سے ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

دولتِ اسلامیہ نے اتوار کو صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی پر قبضہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشندولتِ اسلامیہ نے اتوار کو صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی پر قبضہ کیا تھا

بدھ کو عراقی حکام نے ان افراد کو دریائے فرات عبور کر کے بغداد میں داخل ہونے کی اجازت دی۔

عراق کی شیعہ حکومت کو خدشہ ہے کہ سنّی اکثریتی علاقے سے آنے والے ان افراد میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجو بھی ہو سکتے ہیں جو ان کے ہمراہ دارالحکومت میں پہنچ سکتے ہیں۔

عراق کے لیے اقوامِ متحدہ کی نائب ایلچی لیزے گرینڈ کا کہنا ہے کہ عراقی حکام نے ان خدشات کے پیشِ نظر شہر کے داخلی راستوں پر شناختی چوکیاں بھی قائم کر دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی ہی ایک چوکی پر چھ ہزار کے قریب افراد جمع ہوئے جو کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور تھے۔

اقوامِ متحدہ پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ رمادی سے آبادی کے انخلا کے نتیجے میں انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔