عراق کے صوبہ انبار میں سنی شیعہ کشمکش

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, جم موئر
- عہدہ, بی بی سی نیوز، بیروت
عراق کے سب سے بڑے صوبے انبار کے دارالحکومت رمادی پر دولت اسلامیہ کے قبضے کے بعد عراق کا مستقبل آئندہ آنے والے دنوں میں تاریک دکھائی دیتا ہے۔
یہ ناکامی عراقی فوج، وزیراعظم حیدر العبادی اور امریکہ کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے جنھوں نے ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کے بجائے سرکاری فوج اور پولیس کو استعمال کرنے کی پالیسی کی حوصلہ افزائی کی تھی۔
سنی اکثریتی آبادی والے اس علاقے میں شیعہ ملیشیا کی کارروائی سے فرقہ وارانہ ردعمل سامنے آنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن رمادی میں پسپائی کے بعد اب وزیراعظم العبادی کے پاس الحشد الشعبی نامی شیعہ ملیشیا کو گرین سگنل دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔
سنی اکثریتی آبادی پر مشتمل صوبہ انبار کی صوبائی کونسل نے بھی اس عمل کی منظور دے دی ہے جنھیں شیعہ جنگجوؤں کو اجازت دینے پر تحفظات تھے۔
تاہم سنی نقطۂ نظر انتہائی منقسم اور تشویش ناک ہے۔ بیشتر افراد اپنے علاقوں میں شیعہ جنگجوؤں کی مداخلت کے بارے میں فکرمند ہیں، کیونکہ شیعہ ملیشیا ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کی ہدایات اور سربراہی میں عمل سرانجام دیتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہunknown
عراق میں نوری المالکی کی زیرقیادت سابق دور حکومت میں یہ فرقہ وارانہ پالیسیوں کے باعث سنیوں کی بیگانی اور تعصب ہی تھا جس کی وجہ سے گذشتہ برس دولت اسلامیہ سنی علاقوں میں بغیر کسی بڑی مزاحمت کے اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوئی تھی۔
سنیوں کی شکایات کے ازالے کے لیے بہت کم اقدامات کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم العبادی جن کا تعلق سابق وزیراعظم نوری المالکی کی شیعہ مذہبی جماعت ہی سے ہے، وہ تاحال شیعہ ملیشیا اور ان کے ایرانی حامیوں کا سامنا نہیں کر سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سنی سیاست دان کا کہنا ہے: ’سنیوں کو مستحکم کرنے کا عمل ابھی تک شروع بھی نہیں ہوا۔ سنی اب اس نکتے پر پہنچ رہے ہیں کہ دولت اسلامیہ شیعہ ملیشیا سے کم نقصان دہ ہے۔‘
اس کے باوجود شیعہ ملیشیا صوبہ انبار میں پیش قدمی کر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کامیابی کا کیا ردعمل سامنے آئے گا، اور دولت سلامیہ کو باہر نکالنے کے بعد سکیورٹی کا خلا کون پر کرے گا؟

،تصویر کا ذریعہAFP
شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے ترجمان یوسف الکلابی زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملیشیا سرکاری احکامات کے مطابق کارروائی کرے گی۔
وہ کہتے ہیں: ’ہم سکیورٹی فورسز کی اصل کمر اور اس ملک کے ناقابل تسخیر قلعہ ہوں گے۔ ہم عراق کی حکومت اور پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے قوانین کی حمایت کریں گے۔‘
تاہم اس قسم کی باتیں ماضی میں افسانوی ثابت ہوئی ہیں۔
رواں سال مارچ کے اواخر میں شیعہ ملیشیا نے ایک اور سنی صوبے کے دارالحکومت تکریت کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے ’آزاد‘ کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
واضح طور پر زیادتیاں بدترین ہوسکتی ہیں۔ جیسا کہ وزیراعظم العبادی کہتے ہیں کہ بدلے کے طور پر ’صرف‘ 60 کے قریب سنیوں کی جائیدادوں کو نذر آتش کیا گیا یا نقصان پہنچایا گیا (دیگر یہ تعداد 200 کے قریب بتاتے ہیں)، اور بہت زیادہ سنیوں کو قتل نہیں کیا گیا۔
لیکن اب جبکہ علاقہ باضابطہ طور پر فوج اور پولیس کے کنٹرول میں ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل یہ الحشد الشعبی کے زیراثر ہی ہے اور ہزاروں مقامی سنی جو علاقہ چھوڑ کر گئے تھے انھیں واپس نہیں آنے دیا جا رہا۔

،تصویر کا ذریعہAP
بغداد کے جنوب اور جنوب مغرب میں واقع جرف السخر کے علاقے کو اسی طرح سنی آبادی سے خالی کروایا گیا تاکہ صوبہ انبار اور جنوب میں مقدس شہروں نجف اور کربلا میں ایک سکیورٹی بفرزون قائم کیا جا سکے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تین ہزار سنیوں کے گھروں کو مسمار کیا گیا اور تقریباً سات ہزار خاندانوں نے نقل مکانی کی جنھیں واپس آنے کی اجازت نہیں ہے۔
ایک مقامی رہنما کہتے ہیں: ’آپ نے عراق میں شیعہ علاقوں کے تحفظ کے لیے نصف سنیوں کو قتل کر دیا ہے۔‘
ناراض سنی رہنما شکوہ کرتے ہیں کہ قومی وسائل سرکاری فورسز کے بجاے شیعہ ملیشیا کو دیے جارہے ہیں۔
ایک ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جانب سے آرمی کو بھیجی جانے والی 67 بکتربند ہموی گاڑیاں شیعہ ملیشیا کے حوالے کر دی گئی ہیں، اور وزیردفاع کو اس کا علم بھی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد سے متحدہ عرب امارات کی جانب سے امداد اچانک روک دی گئی ہے۔
چنانچہ شیعہ ملیشیا کے صوبہ انبار میں داخلے سے شیعہ سنی خانہ جنگ کے خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں یا ایران اور امریکہ کے مابین مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مبصرین کو امید ہے کہ بغداد میں ایرانی وزیردفاع، وزیراعظم العبادی کی اتوار کو امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل لوئڈ ایسٹن کے ساتھ ملاقات شیعہ ملیشیا کی مداخلت سے فرقہ وارانہ اثرات کو کم کرنے موثر ثابت ہو گی۔
امریکہ نے رمادی میں شکست کو تسلیم نہیں کیا جیسا بشار الاسد نے شام میں ہاتھ سے نکل جانے والے علاقوں کو ’ایک طویل جنگ میں پیش آنے والے نشیب و فراز‘ قرار دیا تھا۔
لیکن، شمالی شام میں کوبانی کے علاقے میں ہونے والی کوششوں کی طرح رمادی کی بھی ایک سیاسی اور علامتی حیثیت ہے جو اس کی دفاعی حیثیت سے کہیں زیادہ ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ انھیں ’عراقی فوجوں کی مدد کرنی ہو گی اور اسے واپس حاصل کرنا ہو گا۔‘
اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ فضائی حملے کرے گا (اگرچہ رمادی میں عراقی فوج کی حمایت میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا) تاکہ شیعہ ملیشیا کو اس سنی علاقے میں مدد مل سکے، جس سے ناگزیر طور پر ایرانی اثر و رسوخ اور کنٹرول پھیلنے میں مدد ملے گی۔







