رمادی سے نقل مکانی کرنے والوں کو بغداد آنے سے روک دیا گیا

بزیبیز پل انبار صوبے سے بغداد میں آنے کا ایک محفوظ راستہ تصور کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبزیبیز پل انبار صوبے سے بغداد میں آنے کا ایک محفوظ راستہ تصور کیا جاتا ہے

عراقی حکام نے اس اہم پل کو بند کر دیا ہے جس کے ذریعے لوگ رمادي شہر سے نقل مکانی کرکے دارالحکومت بغداد میں داخل ہو رہے ہیں۔

رمادي پر دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کا قبضہ ہونے کے بعد تقریباً 40 ہزار سے زیادہ لوگ شہر چھوڑ چکے ہیں اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ ان لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے کے نائب کوارڈینیٹر نے رمادی چھوڑنے والے ان افراد کی پریشانیوں اور مشکلات کا ذکر کیا ہے۔

نائب کوارڈینیٹر ڈومینک بارش نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بے گھر ہونے والے افراد میں خواتین، بوڑھے اور بیمار بھی شامل ہیں جنھیں بغداد میں داخل ہونے والے پل کے قریب روک دیا گیا ہے۔‘

انھوں بتایا ہے کہ پل کے قریب پانی کی کمی کے سبب کئی بچوں کی ہلاکت بھی خبریں ہیں۔

مسٹر ڈومینک نے بتایا کہ جو لوگ ابھی بھی رمادی میں ہیں ان کے بارے بہت کم معلومات ہیں۔

انھوں نے کہا: ’ہمیں انتقامی کاروائیوں، گولی مارنے اور شہر میں جو شہری بچ گئے ہیں ان کے خلاف ظلم و ستم کی خبریں مل رہی ہیں۔‘

پناہ گزینوں میں بوڑھے، بچے اور بیمار بھی شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپناہ گزینوں میں بوڑھے، بچے اور بیمار بھی شامل ہیں

یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ بزیبیز پل کو کیوں بند کیا گیا ہے تاہم اس بات پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ بےگھر ہونے والے لوگوں میں شامل ہو کر کہیں دولت اسلامیہ کے شدت پسند بھی بغداد میں داخل نہ ہو جائیں۔

بزیبیز پل انبار صوبے سے بغداد میں آنے کا ایک محفوظ راستہ تصور کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے کہا ہے کہ اس نے اس علاقے میں غذائی امداد روانہ کرنی شروع کر دی ہے۔

ڈبلیو ایف پی کا کہنا ہے کہ جمعرات کو تقریباً 25 ہزار افراد کو ایمرجنسی امداد فراہم کی گئی جبکہ مزید 15 ہزار افراد کے لیے غذا روانہ کر دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجو رمادی کے مشرق میں وادیِ فرات کے نیچے حبانیہ کی جانب اپنا زور بڑھا رہے ہیں جہاں حکومت نواز افواج رمادی پر جوابی حملے کے لیے یکجا ہورہی ہیں۔

اگر دولت اسلامیہ حبانیہ پر قابض ہو جاتی ہے تو وہ داراحکومت بغداد کے نزدیک واقع شہر فلوجہ تک براہ راست رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

کڑی دھوپ میں پانی کی کمی کے سبب کئی بچوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکڑی دھوپ میں پانی کی کمی کے سبب کئی بچوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں

خیال رہے کہ حکومت کے متعدد جوابی حملے کے باوجود گذشتہ ایک سال سے فلوجہ پر دولت اسلامیہ کا قبضہ ہے۔

جمعے کو عراق کے نائب وزیر اعظم صالح المطلق نے متنبہ کیا کہ دولت اسلامیہ سے ’جنگ اب مقامی بات نہیں رہ گئي ہے‘ اور بین الاقوامی برادری سے اس ضمن میں عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

شام پر انسانی حقوق کی آبزرویٹری نے کہا ہے کہ اپنے حالیہ حملے میں دولت اسلامیہ نے عراق سے ملحق شام کی حکومت کے زیرانتظام آخری شہر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ شام میں پیلمائرا اور عراق میں رمادی پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے شدت پسند تنظیم کے خلاف جاری مہم کو دھچکا پہنچا ہے تاہم صدر اوباما نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ یہ جنگ ہار رہا ہے۔