’عراق بھی مسلح ڈرون استعمال کرنے والے ممالک میں شامل‘

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, جوناتھن مارکس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
عراق بظاہر دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہوگیا ہے جو عسکری کارروائیوں کے لیے مسلح ڈرون طیارے استعمال کر رہے ہیں۔
عراقی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں چین کے فراہم کردہ، ہتھیاروں سے لیس سی ایچ فور ڈرون کا رن وے پر معائنہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
چینی ساختہ ڈرون کی عراقی فوج کو ممکنہ فروخت کی یہ دھندلی تصاویر پہلی مرتبہ مارچ میں منظرِ عام پر آئی تھیں۔
اگر عراقی فوج اب اسے استعمال کر رہی ہے تو یہ اس ملک کی دفاعی صلاحیت میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہو سکتا ہے جس کی فضائیہ تعمیرِ نو کے مراحل سے گزر رہی ہے۔
سی ایچ فور کو خفیہ معلومات جمع کرنے کے ساتھ ساتھ حملوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
عراق کو چینی ہتھیاروں کی فروخت بغداد کی اپنے ہتھیاروں کے لیے ذرائع کو متنوع بنانے کی بڑھتی ہوئی خواہش اور امریکہ پر انحصار ختم کرنے کو ظاہر کرتی ہے۔
گذشتہ ایک سال کے دوران عراق کو روس، ایران اور چین سے ہتھیار موصول ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
لندن کے انٹرنیشنل انسٹیٹوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے ایک تحقیقی تجزیہ کار جوزف ڈیمپسی کا کہنا ہے کہ ’مسلح ڈرون برآمد کرنا چین کی رضامندی کی ایک اور مثال ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سال کے آغاز میں نائیجیریا کو بیجنگ کی جانب سے بہت سے سی ایچ تھری ڈرون طیارے موصول ہوئے۔ خیال ہے کہ نائجیریا انھیں بوکوحرام کے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری مہم میں استعمال کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ بھی کسی قسم کی ٹیکنالوجی کا تبادلہ کرنا چاہتا ہے جبکہ پاکستان کا ذاتی ڈرون پروگرام چین سے بہت زیادہ متاثر نظر آتا ہے۔‘
پاکستان کے مسلح براق ڈرون طیارے کی نومبر 2013 میں رونمائی کی گئی جو چینی سی ایچ تھری طیارے کے مماثل حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مسلح ڈرون طیاروں کے پھیلاؤ نے اسلحے کی روک تھام کرنے والے کئی اداروں اور انسانی حقوق کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ابتدائی طور پر ڈرون کا استعمال چند مغربی اقوام بالخصوص اسرائیل اور امریکہ تک ہی محدود تھا لیکن اب ان کا استعمال تیزی سے بڑھنے لگا ہے۔







