’پیرس حملوں کے سرغنہ یونان میں پولیس سے بچ نکلے تھے‘

یونانی حکام کے خیال میں عبدالحمید اباعود موبائل فون کے ذریعے بیلجیئن سیل چلا رہے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیونانی حکام کے خیال میں عبدالحمید اباعود موبائل فون کے ذریعے بیلجیئن سیل چلا رہے تھے

یونان میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے پیرس میں ہونے والے حملوں سے قبل جنوری میں ان حملوں کے مبینہ سرغنہ عبدالحمید اباعود کو پکڑنے کی کوشش کی تھی تاہم ان کا یہ آپریشن ناکام رہا تھا۔

بیلجیئم کے انسداد دہشت گردی کے ایک ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ بیلجیئم میں چھاپہ مار کارروائیوں سے قبل ایتھنز میں عبدالحمید اباعود کو پکڑنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی تھی تاہم ایسا ممکن نہ ہوسکا۔

<link type="page"><caption> دہشت گردی کے خطرات: ’یورپ کی فوری بیداری ضروری‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151119_paris_attacks_abaaoud_died_sh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’اباعود محاصرے کے وقت بتاکلان کے پاس موجود تھا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151125_paris_suspects_revisited_spot_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> اباعود کی ہلاکت کے بعد کچھ اہم سولات</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151120_france_paris_attacks_question_sz.shtml" platform="highweb"/></link>

عبدالحمید اباعود ایتھیز سے فون کے ذریعے بیلجیئم میں سیل کو ہدایات دے رہے تھے۔

خیال رہے کہ عبدالحمید اباعود 13 نومبر کو پیرس میں حملوں کے پانچ دن بعد فرانسیسی پولیس کے ساتھ مقابلے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ پیرس میں ہونے والے حملوں میں 130 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

یونان کی جانب سے آپریشن بیلجیئم کے مغربی شہر ویویئرز میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے 15 جنوری کو کی جانے والی کارروائی سے قبل کیا جاتا تھا۔ اس کارروائی میں دو مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔

یونانی حکام کے خیال میں عبدالحمید اباعود موبائل فون کے ذریعے بیلجیئن سیل چلا رہے تھے۔

پیرس میں ہونے والے حملوں میں 130 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپیرس میں ہونے والے حملوں میں 130 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی

انسداد دہشت گردی کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک سینیئر بیلجیئن پولیس آفیسر ویویئرز میں کارروائی سے قبل اباوعود کی تلاش کے لیے اپنے یونانی ہم منسب کے ساتھ معاونت کر رہا تھا۔

تاہم یہ تاحال واضح نہیں ہے کہ عبدالحمید اباعود یونان سے کیسے بچ نکلے۔ انھیں ان کے موبائل فون کے سگنلز کے ذریعے پکڑنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ کامیاب نہ ہو سکی۔

یونانی حکام ان تفصیلات کی تصدیق نہیں کر رہے، ان کا صرف یہ کہنا ہے کہ وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔

یونان کی پولیس کی جانب سے صرف ویویئرز میں کارروائی کے دو روز بعد 17 جنوری کو چھاپے مارے گئے۔

اس روز بیلجیئن میڈیا پر یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ انھیں اباعود نامی مراکشی نژاد بیلجیئن شہری کی تلاش ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ یونان میں چھپا ہوا ہے۔

یونان میں پولیس نے دو گھروں پر چھاپے مارے تھے۔

ایک الجزائری شخص کو بیلجیئم کے حوالے کیا گیا تھا تاہم اباعود کا پتہ نہ چل سکا۔

اب یہ امر سامنے آیا ہے کہ دونوں گھروں سے ڈی این اے کے حاصل کیے گئے نمونے پیرس میں اباعود کی لاش سے حاصل کیے گئے نمونوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔

ان گھروں کے ایک قریب رہنے والے ایک شخص وسیلس کٹسانوس کا کہنا ہے کہ انھوں نے عبدالحمید اباعود کو کم از کم دو بار گلی میں دیکھا تھا۔