’اباعود محاصرے کے وقت بتاکلان کے پاس موجود تھا‘

اباعود نے خود بھی پیرس کے بار اور ریستورانوں پر ہونے والی فائرنگ میں حصہ لیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناباعود نے خود بھی پیرس کے بار اور ریستورانوں پر ہونے والی فائرنگ میں حصہ لیا تھا

فرانسیسی پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ پیرس میں ہونے والے حملوں کا مبینہ منصوبہ ساز عبدالحمید اباعود پولیس کی جانب سے بتاکلان تھیٹر کے محاصرے کے وقت اس علاقے میں موجود تھا۔

فرانسوا مولنز نے یہ بھی کہا ہے کہ فون کے ریکارڈز بتاتے ہیں کہ عبدالحمید حملے کے بعد اس علاق میں بھی گیا جہاں کیفے اور ریستورانوں کو نشانہ بنایا گيا تھا۔

<link type="page"><caption> پیرس کے ایک یرغمالی کی کہانی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151122_hostage_held_for_hours_paris_sr.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> منصوبہ ساز کی کزن حسنہ ’خودکش بمبار‘ نہیں تھیں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151120_paris_third_attacker_identified_ak.shtml" platform="highweb"/></link>

خیال ہے کہ حملوں کے پانچ دن بعد ساں ڈنی کے علاقے میں آپریشن میں مارے جانے والے اباعود نے خود بھی پیرس کے بار اور ریستورانوں پر ہونے والی فائرنگ میں حصہ لیا اور اس کے بعد وہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ایک کار میں بھاگنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

فرانسوا مولنز نے منگل کو بتایا کہ یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ اباعود میٹرو کے ذریعے جائے حادثہ پر پہنچا تھا اور اس نے حملوں کے بعد اپنی ایک کزن حسنی کی مدد سے ساں ڈنی میں کرائے پر فلیٹ حاصل کرنے سے پہلے دو دن شمالی پیرس کے نواحی علاقے میں گزارے تھے۔

اباعود اور اس کی کزن حسنی سان ڈنی میں پولیس کے چھاپے کے دوران مارے گئے تھے
،تصویر کا کیپشناباعود اور اس کی کزن حسنی سان ڈنی میں پولیس کے چھاپے کے دوران مارے گئے تھے

18 نومبر کو فلیٹ پر پولیس کے چھاپے میں ان دونوں کے علاوہ ایک تیسرا شخص بھی مارا گیا جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ حملے کی رات اباعود کے ساتھ بھاگنے والا اس کا ساتھی رہا ہوگا۔

تفتیش کرنےوالوں کا کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد ہیں کہ اگر انھیں گھیر کر مار نہ دیا گيا ہوتا تو وہ بدھ اور جمعرات کو لا ڈیفنس کے تجارتی ضلعے میں خودکش بم حملے کا منصوبہ رکھتے تھے۔

منگل کو فرانسیسی حکام نے ساں ڈنی کا فلیٹ کرائے پر دینے والے جواد بن داؤد کو دہشت گردی میں ساز باز کے الزام کے تحت باقا‏عدہ حراست میں لے لیا ہے۔

دریں اثنا بیلجیئم میں پیرس حملے کے تناظر میں محمد عبرینی نامی شخص کا وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔

بیلجیئم کے حکام نے کہا ہے کہ حملے سے دو دن قبل نیا مشتبہ شخص محمد عبرینی مشتبہ حملہ آور صالح عبدالسلام کے ساتھ پیرس کے ایک پیٹرول سٹیشن پر کار چلاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

عبرینی کے بار میں کہا جاتا ہے کہ وہ مسلح ہے اور خطرناک ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعبرینی کے بار میں کہا جاتا ہے کہ وہ مسلح ہے اور خطرناک ہے

استغاثہ کا کہنا ہے کہ رینو کلیو نامی جوگاڑی عبرینی چلا رہا تھا اسے بعد میں حملے میں استعمال کیا گيا۔

عبرینی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ مسلح ہے اور خطرناک ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ عوام اس سے دور رہیں۔

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں بدھ کو بھی بدستور ہائی الرٹ ہے تاہم چار روز تک بند رہنے کے بعد شہر کے سکول اور میٹرو سروس بدھ سے کھل رہی ہے۔

شہر میں حملے کے خطرے کے پیشِ نظر اب بھی سینکڑوں مسلح پولیس اہلکار اور فوجی سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔

بیلجیئن حکام نے اب تک پانچ افراد پر پیرس حملوں کے تناظر میں دہشت گردی کے الزامات عائد کیے ہیں۔