پیرس سے ایک اور ’دھماکہ خیز بیلٹ‘ برآمد

دھماکہ خیز مواد سے بھری بیلٹ پیر کو مونٹروج کے علاقے میں خاکروبوں کو ایک کوڑے دان سے ملی

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشندھماکہ خیز مواد سے بھری بیلٹ پیر کو مونٹروج کے علاقے میں خاکروبوں کو ایک کوڑے دان سے ملی

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پولیس کو دس روز قبل شہر میں ہونے والے حملوں میں استعمال ہونے والی’خودکش بیلٹ‘ سے ملتی جلتی ایک اور دھماکہ خیز بیلٹ ملی ہے۔

13 نومبر کو پیرس میں متعدد خودکش دھماکوں اور فائرنگ سے 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

<link type="page"><caption> دہشت گردی کا خطرہ، ’امریکی شہری دنیا بھر میں محتاط رہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151123_america_global_travel_advisory_rh" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> بیلجیئم: ایک شخص پر پیرس حملوں میں ملوث ہونے کی فرد جرم عائد</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151123_belgium_charges_man_sq" platform="highweb"/></link>

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بیلٹ شہر کے اس نواحی علاقے سے ملی جہاں سے حملہ آوروں کے کارروائی کے بعد گزرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ادھر بیلجیئم میں بدستور سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور دارالحکومت برسلز میں منگل کو بھی سکول اور میٹرو ٹرین سروس بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

بیلجیئم میں حکام کو خدشہ ہے کہ وہاں بھی پیرس کی طرز پر حملے ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ پیرس حملوں میں ملوث کم از کم ایک مبینہ حملہ آور صالح عبدالسلام بیلجیئم میں ہی رہائش پذیر تھا اور وہ اب مفرور ہے۔

بیلجیئم میں حکام کو خدشہ ہے کہ وہاں بھی پیرس کی طرز پر حملے ہو سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبیلجیئم میں حکام کو خدشہ ہے کہ وہاں بھی پیرس کی طرز پر حملے ہو سکتے ہیں

فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سے بھری بیلٹ پیر کو مونٹروج کے علاقے میں خاکروبوں کو ایک کوڑے دان سے ملی۔

حکام کے مطابق یہ بیلٹ اسی طرح کی ہے جیسی 13 نومبر کے حملوں میں استعمال ہوئی جبکہ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بیلٹ کے ساتھ ڈیٹونیٹر موجود نہیں تھا۔

پیرس حملوں کی تحقیق کرنے والے حکام کے مطابق موبائل ڈیٹا سے پتہ چلا ہے کہ مفرور مبینہ حملہ آور صالح عبدالسلام 13 نومبر کو اس علاقے میں تھا۔

صالح کا ایک بھائی پیرس میں خودکش دھماکے کرنے والوں میں شامل تھا اور ایک خیال یہ ہے کہ صالح بھی خودکش دھماکہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا تاہم وہ اس منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکا۔

فرانس اور بیلجیئم دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر صالح عبدالسلام کی تلاش جاری ہے

بیلجیئن حکام کا کہنا ہے کہ ہائی الرٹ مزید ایک ہفتے تک رہے گا تاہم سکول اور ٹرین سروس بدھ سے کھول دی جائے گی۔

ملک کے وزیرِ اعظم چارلز مچل نے عوام سے کہا ہے کہ وہ سخت ترین سکیورٹی کے باوجود معمولاتِ زندگی بحال کریں۔

انھوں نے منگل کو اعلان کیا کہ برسلز میں الرٹ کا درجہ چار ہی رہے گا جبکہ بقیہ ملک میں یہ درجہ تین پر ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں حملے کا خطرہ یقینی اور ٹھوس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے عوام سے کہہ رہے ہیں کہ وہ پرسکون اور چوکس رہیں۔‘

بیلجیئم میں وفاقی پراسیکیوٹر کے مطابق اب تک چار افراد پر پیرس حملوں کے تناظر میں دہشت گردی کے الزمات کی فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

یہ چاروں لوگ ان 21 افراد میں شامل ہیں جنھیں اتوار اور پیر کو چھاپوں کے دوران پکڑا گیا تھا۔ پولیس نے حراست میں لیے گئے بقیہ 17 افراد کو رہا کر دیا ہے۔