فرانس کے دولتِ اسلامیہ کے خلاف تیز تر فضائی حملے

فرانس نے اپنے جنگی بحری جہاز چارلز ڈی گال سے پرواز کرنے والے جنگی طیاروں کی مدد سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔

اس بحری جہاز پر 26 جنگی طیاروں کی جگہ ہے جو فرانس کی اس سے پہلے کی صلاحیت سے تین گنا ہے۔

فراسن کے صدر فرانسوا اولاند نے شام اور عراق میں موجود شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف حملے تیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ تنظیم کی جانب سے پیرس حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد کیا گیا۔

اسی اثنا میں بیلجیئم کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے میں چھاپوں کے دوران مزید پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

تازہ حملوں کا فیصلہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے پیرس حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد کیا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنتازہ حملوں کا فیصلہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے پیرس حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد کیا گیا

برطانوی وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون کے ساتھ اپنی ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ فرانس کا طیارہ بردار جہاز چارلز ڈی گال دولتِ اسلامیہ کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ لے گا۔

برطانوی وزی اعظم اور فرانس کے صدر نے دونوں ملکوں میں انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون بڑھانے اور اس بارے میں فضائی کمپنیوں کے ریکارڈ اور دیگر ڈیٹا کے تبادلے پر اتفاق کیا۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا:’ہم اپنے حملے تیز کریں گے، اس میں ایسے اہداف کا انتخاب کیا جائے گا جس سے دہشت گردوں کی فوج کو ہر ممکن نقصان پہنچے۔‘

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیویڈ کیمرون نے نے اس موقعے پر فرانسیسی صدر کی دولتِ اسلامیہ کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ میرا پختہ یقین ہے کہ ایسا ہمیں کرنا چاہیے۔‘

نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ نے پیرس پر حملوں کی ذمہ داری قبول تھی اور اس حملے میں 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس بحری جہاز پر 26 جنگی طیاروں کی جگہ ہے جو فرانس کی اس سے پہلے کی صلاحیت سے تین گنا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناس بحری جہاز پر 26 جنگی طیاروں کی جگہ ہے جو فرانس کی اس سے پہلے کی صلاحیت سے تین گنا ہے

دریں اثنا بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں مسلسل تیسرے دن بھی سکیورٹی ’ریڈ الرٹ‘ پر ہے۔

سکیورٹی ادارے پیرس میں دہشت گردی کے حملوں میں ملوث صلاح عبدالسلام کو تلاش کر رہے ہیں لیکن ابھی تک انھیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

بیلجیئم میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے مشتبہ افراد کے خلاف آپریشن کے دوران 16 افراد کو گرفتار کیا ہے تاہم ان میں پیرس حملوں میں مبینہ طور پر ملوث شدت پسند صالح عبدالسلام شامل نہیں۔

اتوار کو میڈیا بریفنگ کے دوران بیلجیئن پراسیکیوٹر ایرک وین ڈر سپٹ نے بتایا کہ 19 سرچ آپریشن برسلز میں جبکہ مزید تین شارلروا شہر میں کیے گئے۔

اس سے پہلے جمعے کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں متقفہ طور پر منظور کی جانے والے ایک قرارداد میں تمام ممالک پر زور دیا گیا تھا کہ وہ نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شامل ہوں۔