بیلجیئم میں آپریشن،’16 گرفتار، صالح کی تلاش جاری‘

،تصویر کا ذریعہReuters
یورپی ملک بیلجیئم میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے مشتبہ افراد کے خلاف آپریشن کے دوران 16 افراد کو گرفتار کیا ہے تاہم ان میں پیرس حملوں میں مبینہ طور پر ملوث شدت پسند صالح عبدالسلام شامل نہیں۔
اتوار کو میڈیا بریفنگ کے دوران بیلجیئن پراسیکیوٹر ایرک وین ڈر سپٹ نے بتایا کہ 19 سرچ آپریشن برسلز میں جبکہ مزید تین شارلروا شہر میں کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ مولن بیک میں آپریشن کے دوران دو گولیاں بھی چلیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کے دوران کوئی اسلحہ یا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔
<link type="page"><caption> بیلجیئم میں پولیس کو ’کئی مشتبہ افراد‘ کی تلاش</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151121_brussels_terror_alert_sh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> پیرس حملوں کا مبینہ ملزم گرفتار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151122_belgium_security_alert_zh" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> پیرس کے ایک یرغمالی کی کہانی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151122_hostage_held_for_hours_paris_sr" platform="highweb"/></link>
اس سے قبل بیلحیئم کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ برسلز میں پیرس حملوں میں جیسی دہشت گردی کی کارروائی کے خدشات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی۔
وزیراعظم چارلس مائیکل نے کہا کہ برسلز میں پیر کو سکول، یونیورسٹیاں اور میٹرو سروس بند رہے گی۔ یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے سکیورٹی کی صورتحال کا از سرِ نو جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہفتہ وار تعطیلات کے دوارن بھی برسلز شہر مکمل طور پر بند رہا اور پولیس پیرس حملے میں ملوث مبینہ حملہ آور صلاح عبدالسلام کو تلاش کرتی رہی۔
13 نومبر کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے پیرس میں حملے کر کے 130 افراد کو ہلاک کیا تھا۔ بعض حملہ آوروں کا تعلق برسلز سے بتایا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دوسری جانب فرانسیسی پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ایک خودکش بمبار کی نئی تصویر جاری کی گئی ہے۔ بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ شخص یونان میں ایم المحمود کے نام سے پہنچا تھا۔
بی بی سی کے ایڈ ٹامسن نے فرانسیسی پولیس کی طرف سے جاری کردہ تصویر کا موازنہ ٣ اکتوبر کو یونانی جزیرے لیروس میں آنے والی ایک شخص کی دستاویزات میں شامل تصویر سے کیا ہے۔
یہ شخص شامی پناہ گزینوں کے گروہ میں شامل تھا اور اس کے ساتھ ایک اور حملہ آور بھی تھا جو احمد المحمد کے نام سے سفر کر رہا تھا۔
اس سے قبل وزیر داخلہ جان جیمبون کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کا موجودہ خطرہ اس خطرے سے بڑا ہے جو پیرس حملوں میں مطلوب صالح عبدالسلام کی وجہ سے درپیش تھا۔
انھوں نے فلیمش براڈکاسٹر وی ٹی آر کو بتایا: ’یہ خطرہ ایک مشتبہ دہشت گرد سے بڑھ کر ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ پولیس کو کئی مشتبہ افراد کی تلاش ہے۔ تاہم انھوں نے واضح نہیں کیا ہے کہ ان کا اشارہ پیرس حملوں میں ملوث افراد کی طرف یا بیلجیئم میں حملوں میں تیاری کرنے والے دیگر افراد کی طرف تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
برسلز میں شہر کی سڑکوں پر پولیس اہلکاروں کے ساتھ فوج کے دستے گشت کر رہے ہیں اور جبکہ حکومتی تنبیہ کے باعث چھٹی کے دنوں میں بھی عوامی مقامات ویران رہے۔
بیلجیئم کے حکام نے تاحال پیرس حملوں میں ملوث تین افراد کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق نو شدت پسندوں نے حملے کیے تھے جن میں سے سات جمعے کی رات مارے گئے تھے۔
ان حملوں میں مبینہ طور پر ملوث صالح عبدالسلام کو بیلجیئم لے جانے والے ایک ڈرائیور نے اپنی وکیل کو بتایا تھا کہ عبدالسلام نے ایک بڑی جیکٹ پہن رکھی تھی اور شاید وہ دھماکے کے لیے تیار تھے۔







