پیرس حملوں کا مبینہ ملزم گرفتار، برسلز میں سکیورٹی الرٹ

ایسا خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مشتبہ حملہ آوروں کا تعلق بیلجیئم سے تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنایسا خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مشتبہ حملہ آوروں کا تعلق بیلجیئم سے تھا

ترکی میں حکام نے کہا ہے کہ بیلجیئم کے ایک شہری کو پیرس حملوں سے تعلق کے شبہ میں اُس وقت گرفتار کیا گیا ہے جب وہ دو دیگر مشتبہ شدت پسندوں سمیت شام جا رہے تھے۔

مراکشی نثراد احمد داھمانی کو ترکی ساحلی شہر انتالیہ کے ایک ہوٹل سے حراست میں لیا گیا۔ایک ترک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ 26 سالہ ملزم کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ پریس میں حملے کرنے والوں سے رابطے تھا۔

<link type="page"><caption> ’تمام ممالک دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شامل ہوں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151121_un_resolution_against_islamic_state_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پیرس حملہ آور کے بھائی کو چھوڑ دیا گیا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151116_paris_suspect_release_ak.shtml" platform="highweb"/></link>

انھوں نے کہا کہ داھمانی ایک ہفتے قبل ایمسٹرڈم سے آئے تھے اور دو دیگر مشتبہ شدت پسندوں کے ساتھ شام جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ ان افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مغربی قوتیں الزام لگاتی رہی ہیں کہ ترکی جہادیوں کو شام جانے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اس سے قبل بیلجیئم نے دارالحکومت برسلز میں دہشت گردی کا انتباہ جاری کرتے ہوئے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

حکام نے دہشت گردی کے خطرات کو ’انتہائی سنگین‘ اور ’فوری خطرہ‘ قرار دیا ہے۔

بیلجیئم کے وزیراعظم چارلس مائیکل کا کہنا ہے کہ برسلز میں دہشتگردی سے چوکنا رہنے کی سطح انتہائی درجے پر لے جانے کا فیصلہ ایک ایسے حملے کے خدشے کو نظر میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے ’جیسا کہ پیرس میں ہوا‘۔

انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’گولہ بارود سے لیس کئی مسلح افراد ایک جگہ یا مختلف مقامات پر حملے کر سکتے ہیں۔‘

ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کم از کم اتوار تک میٹرو سروسز بند رہیں گي

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کم از کم اتوار تک میٹرو سروسز بند رہیں گي

پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کم سے کم اتوار تک میٹرو سروس بند رہے گي، عوام کو تجارتی مراکز اور تفریحی مقامات سمیت پُر ہجوم مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بیلجیئم کے دوسرے علاقوں کے لیے سکیورٹی کی سطح نیچلے درجے پر ہے تاہم خطرے کو سنگین خیال کیا جاتا ہے۔

ایک ہفتے قبل فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والے حملوں کے مشتبہ ملزمان کا تعلق برسلز سے بتایا جاتا ہے۔

خیال ہے کہ سب سے زیادہ مطلوب شخص صالح عبدالسلام بیلجیئم واپس جا چکے ہیں، جہاں ان کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کی جا رہی ہے۔

پیر کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اتفاق رائے سے قرارداد منظور کی تھی کہ فرانس میں ہونے والے حملے کے بعد دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کو ’دگنا کردینا چاہیے۔‘

فرانس کی جانب سے تیار کی گئی قرارداد میں اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں ’تمام ضروری اقدامات کرنے‘ کی اپیل کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ دولتِ اسلامیہ نے پیرس حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔بیلجیئم کے حکام نے ابھی تک پیرس حملوں کا الزام تین افراد پر عائد کیا ہے۔