’ہم سے دہشت گردوں جیسا سلوک ہو رہا ہے‘

مسلمانوں کو اپنے بچوں کو دہشت گردوں کے بارے میں سمجھانا قدرے مشکل ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہMon Quotidien

،تصویر کا کیپشنمسلمانوں کو اپنے بچوں کو دہشت گردوں کے بارے میں سمجھانا قدرے مشکل ہو رہا ہے

پیرس حملوں کے بعد بہت سے والدین کو اپنے بچوں سے بات کرنے میں دقت کا سامنا ہے اور یہ دقت بطور خاص مسلم گھروں میں زیادہ ہے۔

اسی بات کے پیش نظر بچوں کے ایک روزنامے نے منگل کے صفحات اپنے نوجوان قارئین کے لیے وقف کیا ہے۔

نو سالہ ایمان نے بتایا: ’میں گذشتہ پیر کو جب سکول گیا تو میرے بعض دوستوں نے مجھ سے دہشت گردوں جیسا سلوک کیا۔ میں نے اپنی ٹیچر کو بتایا اور انھوں نے ہمارے ساتھیوں کو بتایا کہ مسلمان ہونا دہشت گرد ہونا نہیں ہے۔‘

ایک دوسرے نو سالہ بچے محمد نے بتایا: ’مجھے صدمہ پہنچا اور میں نے اس کے بارے میں اپنی ماں کو بتایا۔ مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ وہ (دہشت گرد) ہمارے شہر میں بھی آ جائیں گے۔‘

یہ دونوں چھ سال سے 10 سال کے بچوں کے لیے مخصوص اخبار ’لا پیٹٹ کوٹیڈیئن‘ کو اپنی روداد بتا رہے تھے۔

خیال رہے کہ پیرس حملے کے بعد اسی اخبار کے دوسرے ایڈیشن ’مون کوٹیڈیئن‘ اور ’آئی ایکٹو‘ جو ذرا بڑے بچوں کے لیے تھے وہ چار دنوں تک اپنے قارئین کے سوالوں کے جوابات اور اس بارے میں وضاحت فراہم کرتے رہے۔

کوٹیڈیئن اخبار نے مختلف عمر کے مسلم بچوں سے ان کے تجربات جاننے کی کوشش کی

،تصویر کا ذریعہ Mon Quotidien

،تصویر کا کیپشنکوٹیڈیئن اخبار نے مختلف عمر کے مسلم بچوں سے ان کے تجربات جاننے کی کوشش کی

لاپیٹٹ کی مدیر فرانسوا ڈوفور نے بتایا کہ انھیں ’والدین کی جانب سے ستائشی خطوط موصول ہوئے جن میں انھوں نے بچوں کو نہ سمجھائی جانے والی اس چیز کے سمجھانے میں ہمارے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔‘

لیکن انھیں دس خطوط ایسے بھی ملے جس میں ستائش نہیں تھی۔ یہ مسلمان والدین کی جانب سے آئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’آپ انھیں (حملہ آوروں) کو مسلمان نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہیں وہ صرف اسلام کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ سخت اسلام کے نفاذ میں یقین رکھتے ہیں لیکن اس سے ہم دہشت گرد تو نہیں ہو جاتے۔‘

اس کے بعد انھوں نے اپنے مسلمان قارئین کے نام اپیل جاری کی کہ وہ اپنے احساسات و جذبات اور تجربات کو اخبار کے ساتھ شیئر کریں۔

جنھوں نے ایسا کیا انھوں نے بتایا کہ ’اس پر بات کرنا بہت سہل نہیں ہے۔ وہ خوفزدہ، حیرت زدہ ہیں اور انھیں یہ جان کر مزید کراہت ہوتی ہے کہ لوگ ان کے مذہب کے نام پر قتل کر رہے ہیں۔‘

بچوں نے بتایا کہ انھیں دہشت گرد کے طور پر دیکھا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہlactu

،تصویر کا کیپشنبچوں نے بتایا کہ انھیں دہشت گرد کے طور پر دیکھا جاتا ہے

بچے یہ جان کر بہت زیادہ حیرت زدہ ہوئے کہ دہشت گرد فرانسیسی ہیں یعنی فرانسیسی ہی فرانسیسی کو مار رہے ہیں اور یہ ان کے لیے انتہائی حیران کن تھا۔

بچوں نے اسلام کے بارے میں اپنی سمجھ کو بھی اخبار کے ساتھ شیئر کیا۔

شائمہ نے کہا ’آپ چوری نہیں کر سکتے کسی کو مار نہیں سکتے جبکہ الیسیا رم نے کہا ’میرے لیے اسلام یہ ہے کہ غریبوں کو کھانے دو پیسے دو، ہسپتال بناؤ، بیماروں کی مدد کرو، اپنا کوٹ ایسے کو دے دو جنھیں اس کی ضرورت ہے۔‘

لیکن قدرے بڑے بچے ان حملوں کی تنقید کرتے نظر آئے اور تفصیل کے ساتھ اپنی پریشانیوں کو بتا رہے تھے۔

13 سالہ عبدالقادر نے بتایا کہ ’13 نومبر کے بعد سے ہمارے بارے میں لوگوں کے رویے بدل گئے ہیں۔ پیر کو میں اپنی ماں کے ساتھ میٹرو لینے گیا۔ میری ماں سرپر سکارف رکھتی ہے۔ جب ہم میٹرو میں داخل ہوئے تو ہم نے ایک خاتون کو یہ کہتے سنا ’ارے نہیں اب کہیں یہ نہیں۔‘ ہم خاموش رہے لیکن وہ بات ہمیں پریشان کرتی رہی۔‘

ایک بچے نے بتایا کہ دہشت گردوں نے غلط کیا لیکن یہ داعش کے خلاف فرانس کی نفرت کا جواب تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایک بچے نے بتایا کہ دہشت گردوں نے غلط کیا لیکن یہ داعش کے خلاف فرانس کی نفرت کا جواب تھا

عزیز نے بھی اسی قسم کی بات بتائی: ’ایک طرح سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم لوگ دہشت گرد ہیں۔ ہمیں عجیب طرح سے دیکھتے ہیں، وہ پریشان ہو جاتے ہیں اور دوسری جانب دیکھنے لگتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ ہم سے خوفزدہ ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ویسا کچھ کر سکتے ہیں اور صرف اس لیے کہ ہم عرب مسلمان کی طرح نظر آتے ہیں۔‘

بڑے ٹین ایجرز کے مسائل زیادہ پیچیدہ ہیں۔

17 سالہ عمرکا کہنا ہے: ’حکومت ہماری قدر نہیں کرتی۔ وہ ہمیں تارکین وطن، حقیر اور بےکار کے طور پر دیکھتی ہے۔ دہشت گردوں نے غلطی کی۔ لیکن یہ فرانسیسی حکومت ہے جس نے شام پر بمباری کی ابتدا کی۔ آپ ایسا نہیں کرسکتے کہ اڑتے ہوئے جائیں اور کسی دوسرے ملک پر بم گرائیں۔ پیرس میں داعش کا حملہ اس نفرت کا جواب ہے جو فرانس پھیلا رہا ہے۔‘