میکسیکو میں سمندری طوفان کے بعد اب سیلاب کا خطرہ

،تصویر کا ذریعہAFP
میکسیکو میں پٹریشیا نامی سمندری طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے وراننگ جاری کی گئی ہے۔
بحر الکاہل سے اٹھنے والا طوفان کے میکسیکو کی مغربی ریاست جلسیکو کی ساحلی پٹی سے 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی طوفانی ہواؤں کے ساتھ ٹکرانے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔
تاہم طوفان کے نتیجے میں حکام کے خدشات کے برعکس زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے کیونکہ ساحل سے ٹکرانے سے پہلے اس کی شدت کو درجہ بندی میں پانچ پر رکھا گیا تاہم بعد میں کی شدت میں تیزی سے کمی ہوئی اور گٹیگری دو کے طوفان میں تبدیل ہو گیا۔
طوفان کے ساحلی پٹی سے ٹکرانے کے بعد میکسیکو کے صدر اینرک پینا نیئٹو نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ طوفان کی وجہ سے ملک کے کئی حصوں میں شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلاب آ سکتا ہے اور مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حکام کے مطابق آٹھ سے بارہ انچ تک بارش ہوئی ہے جبکہ بعض مقامات 20 انچ تک بارش ہوئی ہے۔
امریکہ کے نیشنل ہریکین سنٹر (این ایچ سی) کا کہنا ہے کہ زمین پر ہوا کی رفتار میں کمی آئی ہے اور اب یہ 155 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چل رہی اور یہ اب میکسیکو کے شمال اور شمال مشرق کی جانب جا رہا ہے۔
سنیچر کو ریاست نیارت، کولیما، میکواکین اور گیوریرو میں خاص طور پر شدید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابھی تک کسی ہلاکت کی اطلاع موصول نہیں ہوئی جبکہ مرکزی شہر اور سیاحتی مقامات اس طوفان کے براہ راست شکار نہیں ہوئے۔
ریاست جلیسکو سے بی بی سی کی نامہ نگار کیٹی واٹسن نے بتایا کہ لوگوں اپنے گلیوں میں گرے درختوں اور ٹوٹی ہوئی چھتوں کو صاف کر رہے ہیں جبکہ بجلی ٹھیک کرنے کے لیے کمپنی کے کارکن بھی کام میں مصروف ہیں۔
امدادی ادارے ریڈ کراس کے جلیسکو میں موجود نمائیندے ڈینیئل نوئینز کے حوالے بتایا ہے کہ اب تک سامنے آنے والی صورتحال کے مطابق کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا ہے۔
فیڈرل پولیس کے مطابق کولیما سے اب تک کم درجے کی لینڈ سلائنڈنگ اور درختوں کے گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
حکام نے خبردار کیا ہے کہ کولیما کے آتش فشا کی راکھ بھی بارشوں کی وجہ سے مٹی کے ساتھ شامل ہو سکتی ہے۔
میکسیکو کےنیشنل ڈیزاسٹر فنڈ کے مطابق چار لاکھ افراد غیر محفوظ مقامات پر موجود ہیں۔







