اوریگن میں فائرنگ کرنے والے حملہ آور نے’خودکشی‘ کی تھی

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کی ریاست اوریگن میں پولیس حکام کے مطابق ایمپکوا کمیونٹی کالج میں فائرنگ کر کے نو افراد کو ہلاک کرنے والے حملہ آور نے بعد میں خودکشی کر لی تھی۔
مقامی کاؤنٹی پولیس کے سربراہ جان ہنلن نے نے روزبرگ میں ایک نیوز کانفرنس سے میں بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد جیسے ہی پولیس پہنچی تو 26 سالہ حملہ آور کرس ہارپر نے خود کو گولی مار کر اپنی جان لے لی۔
’طبی معائنہ کرنے والے اہلکار کے مطابق حملہ آور کی موت کی وجوہات خود کو گولی مار کر خودکشی کرنا تھا۔‘
پولیس سربراہ نے کہا ہے کہ اس واقعے کی متعدد پہلووں سے تحقیقات کی گئی جس میں سینکڑوں افراد کے انٹرویو کیے گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور اسی کلاس میں پڑھتا تھا جہاں اس نے فائرنگ کی۔
پولیس کے مطابق کرس ہارپر کے گھر سے 14 ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے پولیس نے فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تفصیلات جاری کی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہلاک شدگان کی عمر 18 سے 57 برس تک تھی اور ان میں کالج کے ایک استاد بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس واقعے کے بارے میں ایک طالب علم نے بتایا تھا کہ اس نے اپنے استاد کو سر میں گولی لگتے ہوئے دیکھا۔ اس نے بتایا کے حملہ آور نے مارنے سے پہلے لوگوں سے ان کا مذہب دریافت کیا۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ اس شخص نے بدھ کو اپنے ارادوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کیا تھا۔
امریکہ میں فائرنگ کے اس واقعے کے بعد ہتھیاروں رکھنے کے قانونی حق پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔
صدر اوباما کی جانب سے ہتھیاروں پر کنٹرول کے قانون پر فوری عمل درآمد کی درخواست کی گئی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہتھیاروں سے متعلق قانون کو تبدیل کیا جانا چاہیےاور ایسا نہ کرنے کے لیے امریکی آئین کا حوالہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر نے ان کے بقول ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے سے متعلق ایک عام فہم قانون کو منظور نہ کروا سکنے کو اپنی صدارت کا سب سے جھنجھلاہٹ خیز معاملہ قرار دیا۔







