چارلسٹن قتلِ عام کی نظریاتی بنیاد کس نے فراہم کی؟

کائل راجرز کئی برس سے امریکہ میں نسلی تعلقات کے بارے میں پریشان کن پیغام شائع کرتے رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کی ویب سائٹ کا ایک قاری ڈلن روف ہو جو اس معاملے کو ایک سنگین انجام تک لے گیا۔
کائل راجر اپنے گھر کے باہر بیٹھے اپنے کام کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ان کا گھر سمرول نامی قصبے میں ہے جو جنوبی کیرولائنا کے شہر چارلسٹن سے تقریباً 25 میل دور ہے۔
یہاں پر وہ ایک ویب سائٹ ’کونسل آف کنزروٹیوو سِٹیزنز‘ (سی سی سی یعنی قدامت پسند شہریوں کی کونسل) کے سربراہ ہیں۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کے تمام اراکین انسانوں کی نسلوں کو ملانے کی ہر کوشش کے خلاف ہیں۔
سی سی سی خود کو قدامت پسند عقائد کے حوالے سے سرگرم گروپ بیان کرتا ہے تاہم ان کے نظریات شدید دائیں بازو کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
سی سی سی نفرت آمیز تنظیموں کا ریکارڈ رکھنے والے ادارے سدرن پاورٹی لا سینٹر کی نظر میں ہے۔ لا سینٹر کے مطابق سی سی سی سیاہ فام افریقی نژاد امریکیوں کو ’انسانیت کی کم تر قسم‘ تصور کرتے ہیں۔
کائل راجرز کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ کبھی وہ سفید فام قوم پرست تحریک میں ابھرتے ہوئے ستارے تھے۔ کئی سال سے راجرز پسِ پردہ رہتے ہوئےکام کرتے رہے ہیں۔ تاہم سنیچر کو وہ امریکہ کی اہم ترین خبر کا محور بن گئے۔۔ چارلسٹن میں خوفناک شوٹنگ۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
چارلسٹن میں افریقی نژاد امریکیوں کے تاریخی گرجا گھر پر حملہ کرنے کے سلسلے میں ڈلن روف پر قتل کے نو الزامات ہیں۔
گذشتہ چند روز میں انٹرنیٹ پر ایسی تصاویر شائع ہوئی ہیں جن میں 21 سالہ شخص ڈلن روف کو امریکی پرچم نذرِ آتش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈلن روف کی ویب سائٹ پر آنے والی تصاویر میں سے ایک میں اسے کرسی پر کیمرے کو گھورتے اور بندوق تھامے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور ساتھ میں ان کا منشور بھی نظر آ رہا ہے۔ سنیچر کو سامنے آنے والی تصاویر کے بارے میں ابھی تک یہ واضح نہیں کہ انھیں ویب سائٹ پر کس نے پوسٹ کیا۔
اس منشور میں خاص طور پر انھوں نے سی سی سی کے اس کام کا ذکر کیا ہے جس میں اس تنظیم نے سیاہ فام کی جانب سے سفید فام افراد کو نشانہ بنانے والے جرائم پر تحقیق کی ہے۔
منشور کے مصنف کا کہنا ہے کہ تنظیم کی تحقیق پڑھنے کے بعد وہ بدل گئے۔ کائل راجرز کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات پر حیرانی ہے کہ ان کی تحقیق اس منشور میں استعمال کی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے یہ جان کر بہت افسوس ہوا۔ مجھے تشدد سے نفرت ہے۔‘
کائل راجز جس گلی میں رہتے ہیں وہاں ایک یا دو منزلہ مکانات ہیں، اور گھاس گرمی سے جھلس رہی ہے۔ شام نو بجے بھی یہاں کافی گرمی ہے۔ ان کے گھر کے اندر دیواریں نارنجی رنگ کی اور کھڑکیاں پلاسٹک سے ڈھکی ہوئی ہیں۔
38 سالہ کائل راجرز کا تعلق امریکی ریاست اوہائیو سے ہے، پیشے کے لحاظ سے وہ کمپیوٹر انجینیئر ہیں اور کئی دہائیوں سے نسلی تعلقات کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔ انھوں نے زیادہ وقت سی سی سی کے جریدے اور ویب سائٹ کے مدیر کی حیثیت سے گزارا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے نسلی تعلقات کے بارے لکھنا اس لیے شروع کیا کیونکہ میڈیا چند چیزوں پر بلاوجہ شور مچاتا تھا اور انھیں یہ بات پسند نہیں تھی۔
کائل راجرز اپنے الفاظ احتیاط سے چنتے ہیں، اور اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ان کے الفاظ کسی کو غصہ نہ دلائیں، تاہم اپنے پیغام میں پنہاں نسلی تعلقات میں نفرت کے پیغام کو وہ اہمیت نہیں دیتے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کائل راجرز کا موقف یہ ہے کہ وہ عوام کو یہ سمجھانا چاہ رہے ہیں کہ سفید فام لوگوں کو بھی نسلی وجوہات کی بنا پر نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کے خیال میں میڈیا سفید فام لوگوں کے حوالے سے اس سلسلے میں معتصب ہے۔
وہ مثال کے لیے کہتے ہیں کہ میڈیا اکثر یہ نہیں بتایا کہ جرم ہونے کی صورت میں واقعہ شروع کرنے والا کس نسل کا تھا۔ راجرز کے خیال میں یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے اور ہر بار عوام کو بتائی جانی چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود ایسے سفید فام افراد کے انٹرویو کیے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ سیاہ فام افراد نے انھیں نسل کی وجہ سے نشانہ بنایا۔ کائل راجرز کہتے ہیں کہ انھوں یہ کیس صحافیوں تک بھی پہنچائے ہیں۔
کائل راجرز نے ٹریون مارٹن کیس کے بارے میں بہت سے مضمون شائع کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کیس میں میڈیا سیاہ فام مارٹن کے حق معتصب تھا۔ ہسپانوی نسل کے اور سفید فام زِمرمین جنھوں نے ٹریون مارٹن کو گولی ماری تھی، اس کیس میں بےقصور قرار پائے اور بری ہوگئے تھے۔
کائل راجرز کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد انھوں نے تحقیق شروع کر دی کہ کیا سفید فام افراد کو نسلی بنیادوں پر سیاہ فام لوگ نشانہ بناتے ہیں۔ اور شاید یہی تحقیق چارلسٹن کے خوفناک واقعے کا باعث بنی۔







