چارلسٹن کے تاریخی گرجا گھر میں مذہبی رسومات کی ادائیگی

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کی ریاست جنوبی کیرولائنا کے شہر چارلسٹن میں بدھ کی شب افریقی نژاد امریکیوں کے ایک گرجا گھر میں نو افراد کی ہلاکت کے واقعے کے بعد گرجا گھر دوبارہ کھل گیا ہے۔
سنیچر کو چرچ کے ممبران اسی کمرے میں دوبارہ ملے جہاں پانچ روز قبل ان کے نو ساتھیوں کو 21 سالہ شخص ڈائلن روف نے ہلاک کر دیا گیا تھا۔
مقامی وقت کے مطابق اتوار کی صبح نو بجے شروع ہونے والی سروس میں متعدد افراد کی شرکت کی۔
دوسری جانب پولیس کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
سنیچر کو چارلسٹن کا ایمینوئل افریقن میتھوڈسٹ چرچ جو افریقی نژاد امریکی عیسائیوں کی امریکہ میں موجود قدیم ترین عبادت گاہوں میں سے ایک ہے کے باہر کثیر تعداد میں لوگ اکھٹے ہوئے۔
ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جنھوں نے یہاں پہنچنے کے لیے کئی سو کلومیٹر کا سفر طے کیا ہے۔
62 سالہ مونٹی تامج نے بتایا کہ وہ ناقابلِ برادشت احساسات تھے جو انھیں چارلسٹن کھینچ لائے۔ انھوں نے وہاں آنے کے لیے 480 کلومیٹر کا سفر طے کیا۔
’اسے اتار دیں‘

،تصویر کا ذریعہEPA
خیال رہے کہ حملہ آور ڈائلن روف کی بندوق کے ساتھ مزید تصاویر انٹر نیٹ پر آ گئی ہیں، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ انھیں ویب سائٹ پر کس نے پوسٹ کیا؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویب سائٹ پر آنے والی متعدد تصاویر میں ڈائلن روف کو کنفیڈریشن جھنڈے کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے جو جنوبی امریکہ میں خانہ جنگی کے دوران ایک نشانی کے طور پر اس وقت استعمال ہوتا تھا جب جنوبی ریاستیں غلامی کے خاتمے کو توڑنے کی کوشش کرتی تھیں۔

امریکہ کی ریبپلیکن جماعت کے سابق صدارتی امیدوار مٹ رومنی جنوبی کیرولائنا کے دارالحکومت کی عمارت کے باہر کنفیڈریشن کے لہراتے جھنڈے کو اتارنے کا مطالبہ کرنے والوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
جنوبی کیرولائنا میں ریبپلیکن جماعت کے نمائندے ڈگ برانن نے ایم ایس این بی سی کو جمعے کو بتایا کہ انھوں نے کیرولائنا سے کنفیڈریشن جھنڈے کو اتارنے کے لیے قانون سازی متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق 21 سالہ شخص ڈائلن روف لیگزنٹن ساوتھ کیرولائنا کا رہائشی ہے اور اسے شیلبی سے جعمرات کو گرفتار کیا گیا۔ نو افراد کو ہلاک کرنے کے جرم میں ان پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔







