امریکہ: 12 افراد کے قاتل کو عمر قید کی سزا

جیوری میں اتفاقِ رائے نہ پیدا ہونے کی وجہ سے جیمز ہومز کی سزا عمر قید میں تبدیل ہوگئی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنجیوری میں اتفاقِ رائے نہ پیدا ہونے کی وجہ سے جیمز ہومز کی سزا عمر قید میں تبدیل ہوگئی

امریکی ریاست کولاراڈو میں ایک عدالت نے 2012 میں ایک سینما میں بارہ افراد کو قتل کرنے کے مجرم جیمز ہومز کو سزائے موت سنانے کے بجائے عمر قید کی دے دی ہے۔

جیمز ہومز عمر قید کی سزا کاٹیں گے اور ان کے پرول پر رہا ہونے کی گنجائش نہیں ہوگی۔ 27 سالہ جیمز ہومز نیورو سائنس کے گریجوئیٹ طالب علم تھے۔

ملزم کے وکلا نے دعویٰ کیا تھا کہ واقعے کے دوران ان کے موکل کا ذہنی توازن درست نہیں تھا۔

عدالت نے وکیلِ استغاثہ کے موقف کے ساتھ اتفاق کیا کہ چاہے ملزم ہومز کا ذہنی توازن اس وقت درست نہیں تھا تاہم وہ اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔ تاہم جیوری سزائے موت کے حوالے سے متفق نہیں تھی۔

جیوری میں اتفاقِ رائے نہ پیدا ہونے کی وجہ سے جیمز ہومز کی سزا عمر قید میں تبدیل ہوگئی۔ توقع ہے یہ سزا باضابطہ طور پر ان کی آئندہ سنائی پر دی جائے گی۔

جیوری میں نو خواتین اور تین مرد شامل تھے۔

سزا سنائے جانے کے موقعے پر عدالت میں مجرم ہومز کے والدین موجود تھے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان کی والدہ اپنے شوہر کے کندھے پر سر رکھے سسکیاں لیتی رہیں۔

اس موقعے پر ایشلی موسر بھی موجود تھیں جن کی چھ سالہ بیٹی اس حملے میں ہلاک ہوگئیں اور وہ خود معذور ہوگئیں۔ سزا سنائے جانے پر ان کے چہرے پر بھی شدید دکھ واضح تھا۔

جیمز ہومز نے اپنے مقدمے کے دوران عدالت کے سامنے خود بیان دینے یا کسی قسم کی بھی ملامت ظاہر کرنے سے اجتناب کیا۔

کولوراڈو کے شہر ارورا میں ہوئے اس واقعے کے حوالے سے جولائی میں ہومز پر قتل، اقدامِ قتل اور دھماکہ خیز مواد کے استعمال کے حوالے سے 165 فردِ جرم عائد کی گئی تھیں۔

اس حملے کے متاثرین کے ورثا کی رائے بظاہر اس بات پر منقسم ہے کہ ہومز کو سزائے موت دی جانی چاہیے یا نہیں۔

ان میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ سزائے موت کے ساتھ منسلک اپیلوں کے طویل عمل سے وہ گزرنا نہیں چاہتے اور اس معاملہ کو جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔