امریکہ میں پولیس افسر کو قتل کیس میں بری کرنے پر ہنگامے

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں ایک پولیس افسر کو سیاہ فم جوڑے کے قتل کیس میں بری کرنے پر ہنگامے پھوٹ پڑنے کے بعد پولیس نے 12 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کی جانب سے شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کے باوجود سنیچر کی رات بھی شہر میں بدامنی رہی۔
<link type="page"><caption> سیاہ فام ہی کیوں پولیس کے نشانے پر؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/05/150520_us_shooting_ads.shtml" platform="highweb"/></link>
مائیکل بارلو نامی افسر پر سنہ 2012 میں اس جوڑے کی کار پر فائرنگ کر کے ان کو غیر ارادی طور پر قتل کرنے کا الزام تھا لیکن عدالت نے انھیں اس الزام سے بری کر دیا ہے۔
واضع رہے کہ حالیہ سالوں میں امریکی پولیس کی جانب سے غیر مسلح سیاہ فام شہریوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے ملک کی سیاہ فام آبادی میں غم وغصہ پایا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکی پولیس کے ہاتھوں کئی غیر مسلح سیاہ فام باشندوں کی ہلاکتوں سے مختلف امریکی شہروں میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا اور مظاہرے کیے گئے۔ ان میں سے کچھ کے بقول پولیس کے ہاتھوں مائیکل براؤن، ایرک گارنر، والٹر سکاٹ اور فریڈی گرے کی ہلاکت نسل پرستی اور بے جا طاقت کے استعمال کی مثالیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مائیکل بارلو ان 13 پولیس افسران میں شامل تھے جنھوں نے جوڑے کی کار پر فائرنگ کی تھی لیکن مقدمہ صرف ان پر اس لیے قائم کیا گیا تھا کیونکہ انھوں نے کار کے بونٹ پر چڑھ کر براہ راست شیشے سے کار کے اندر فائرنگ کی تھی۔
یاد رہے کہ پولیس نے جوڑے کی کار کا تعاقب اس وقت شروع کیا تھا جب وہ تیز رفتاری سے کلیولینڈ پولیس ہیڈ کوارٹر کے پاس سے گزرے تھے اور ان کی گاڑی سے ’گولی‘ چلانے کی آواز آئی تھی ، لیکن درحقیقت وہ آواز گاڑی کے سیلنسر کے خراب ہونے کی وجہ پیدا ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنیچر کو کلیولینڈ کی عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس افسران نے جوڑے کی گاڑی پر 137 گولیاں چلائی تھیں اس لیے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ مائیکل بارلو کی جانب سے چلائی جانے والی گولیاں ہی مقتولین کی موت کی وجہ بنی۔
واقعے میں مرنے والے دونوں سیاہ فام جوڑے کو 20 سے زائد گولیاں لگی تھیں اور ان کی گاڑی سے کسی قسم کا اسلحہ بھی برآمد نہیں ہوا تھا۔
امریکہ میں صرف سنہ 2014 میں نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے 1149 افراد پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔







