بالٹیمور پولیس نے ’کچھ بھی غلط نہیں کیا‘

وکیل صفائی مائیکل ڈیوی نے کہا کہ دفاع کی ٹیم کو ’استغاثہ کے منضفانہ مزاج اور ایمانداری پر شدید تشویش ہے‘

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنوکیل صفائی مائیکل ڈیوی نے کہا کہ دفاع کی ٹیم کو ’استغاثہ کے منضفانہ مزاج اور ایمانداری پر شدید تشویش ہے‘

امریکی شہر بالٹیمور میں ایک سیاہ فام شہری کی دورانِ حراست ہلاکت کے معاملے میں جن چھ پولیس افسروں کے خلاف مجرمانہ فعل کے ارتکاب کی بات کہی گئی ہے ان کے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ ان پولیس افسروں نے ’کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے۔‘

خیال رہے کہ سیاہ فام امریکی شہری فریڈی گرے کی ہلاکت کے بعد بالٹیمور میں پرتشدد احتجاج ہوئے جس کے بعد شہر میں ایمرجنسی کا نفاذ بھی کرنا پڑا۔

الزامات کی زد میں آنے والے تمام چھ پولیس افسروں نے رضاکارانہ طور پر خود کو شہر کی جیل میں پیش کیا اس کے بعد ان کو معطل کردیا گيا اور ان پر چارج لگایا گیا۔ تاہم اب وہ ضمانت پر رہا کر دیے گئے ہیں۔

وکیل صفائی مائیکل ڈیوی نے کہا کہ ان افسروں نے ’اپنی تربیت کے لحاظ سے ہمہ وقت معقول انداز میں طرز عمل اختیار کر رکھا تھا۔‘

اس سے قبل بالٹیمور ریاست کی استغاثہ میریلن موزبی نے کہا تھا کہ 25 سالہ سیاہ فام شخص کی موت قتل ہے اور اس کی گرفتاری غیر قانونی تھی۔

میریلن جے موزبی نے کہا کہ آزادنہ جانچ کے نتائج اور طبی جانچ دونوں سے یہ واضح ہے کہ موت قتل ہے اور ان کی بنیاد پر ممکنہ مجرمانہ کیس درج کرنا واجب ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمیریلن جے موزبی نے کہا کہ آزادنہ جانچ کے نتائج اور طبی جانچ دونوں سے یہ واضح ہے کہ موت قتل ہے اور ان کی بنیاد پر ممکنہ مجرمانہ کیس درج کرنا واجب ہے

دوسری جانب بالٹیمور کی میئر نے کہا کہ وہ چھ پولیس والوں کے خلاف قتل کے جرم کے اعلان پر دلبرداشتہ ہیں۔ میئر اسٹیفینی رالنگز بلیک نے کہا کہ ’کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔‘

ایک پولیس افسر پر دوسرے درجے کے قتل کا الزام ہے جبکہ باقی پانچ پولیس افسروں پر غیر ارادی قتل سے لے کر مارپیٹ اور غیر قانونی گرفتاری کا الزام لگایا گیا ہے۔

جمعے کو جوں ہی پولیس کے خلاف جرائم کا اعلان کیا گيا بالٹیمور میں جشن کا ماحول نظر آيا۔ کارڈرائیوروں نے ہارن بجا کر اور لوگوں نے سڑکوں پر مکا لہرا جیت کا اظہار کیا۔

ان چھ پولیس افسروں کو خلاف مقدمہ چلایا جائے گا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنان چھ پولیس افسروں کو خلاف مقدمہ چلایا جائے گا

یہ از خود جشن ایک اجتجاجی مارچ میں تبدیل ہو گیا اور پیر کو فساد کرنے کے جرم میں گرفتار کیے جانے والے لوگوں کے لیے معافی کی اپیل کرنے لگا۔

گرے کے سوتیلے والد ریچرڈ شپلی نے کہا: ’فریڈی کے لیے انصاف حاصل کرنے کی راہ میں یہ چارجز اہم اقدامات ہیں۔‘

جمعے کو پولیس والوں کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کے اعلان کے بعد لوگ سڑکوں پر جشن منانے نکل آئے

،تصویر کا ذریعہna

،تصویر کا کیپشنجمعے کو پولیس والوں کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کے اعلان کے بعد لوگ سڑکوں پر جشن منانے نکل آئے

پولیس افسروں کے وکیل مسٹر ڈیوی نے جج موزبی پر الزام لگایا کہ انھوں ’جلدبازی میں انتہائی قابل اعتراض فیصلہ سنایا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’اس مقدمے میں شامل تمام حقائق کو جب مناسب شکل میں سامنے لایا جائے گا تو ان افسروں کی معصومیت بہت حد تک واضح ہو جائے گی۔‘

مسٹر ڈیوی نے اس بات پر زور دیا کہ گرے کو جو چوٹ آئی تھی وہ پولیس والوں کے کسی عمل کا نتیجہ نہیں تھا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ دفاع کی ٹیم کو ’استغاثہ کے منضفانہ مزاج اور ایمانداری پر شدید تشویش ہے۔‘

لوگوں نے ہوا میں مکا لہرا کر اور کار کے ہارن بجا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلوگوں نے ہوا میں مکا لہرا کر اور کار کے ہارن بجا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا

اس سے قبل جج موزبی نے پولیس تنظیم کی اس اپیل کو مسترد کردیا تھا جس میں ان سے اس مقدمے سے دستبردار ہونے اور اس مقدمے کے لیے خصوصی جج کو مقرر کرنے کی بات کہی گئی تھی۔

استغاثہ نے کہا کہ ’آزادنہ جانچ کے نتائج اور طبی جانچ دونوں سے یہ واضح ہے کہ موت قتل ہے اور ان کی بنیاد پر ممکنہ مجرمانہ کیس درج کرنا واجب ہے۔‘