بالٹیمور میں پرتشدد احتجاج کے بعد کرفیو کا نفاذ

میری لینڈ کے اہم شہر بالٹیمور میں پولیس اور فوج کے جوان کرفیو نافذ کرنے میں لگے ہوئے ہیں جو کہ رات 10 بجے سے صبح پانچ بجے تک رہے گا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمیری لینڈ کے اہم شہر بالٹیمور میں پولیس اور فوج کے جوان کرفیو نافذ کرنے میں لگے ہوئے ہیں جو کہ رات 10 بجے سے صبح پانچ بجے تک رہے گا

امریکہ کی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹیمور میں پولیس کی حراست میں ایک سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے خلاف پرتشدد مظاہروں کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب کرفیو کے نفاذ کے خلاف ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر اتر آئے اور نیشنل گارڈز کے فوجیوں پر پتھر اور اینٹیں پھینکیں۔

کرفیو کے نفاذ سے قبل بالٹیمور کی میئر سٹیفینی رالنگ بلیک نے کرفیو کی مخالفت کرنے والوں اور سڑکوں پر جشن منانے والے افراد سے ملاقات کی اور ان سے گھر جانے کی اپیل کی۔

بالٹیمور میں گذشتہ رات کے پر تشدد واقعات کے بعد پولیس نے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا جو رات 10 بجے سے صبح پانچ بجے تک جاری رہے گا۔

شہر میں منگل کو ایک ہفتے کے کرفیو کے اعلان کے بعد تعلیمی اداروں، نجی اور سرکاری دفاتر اور نجی کارروبار کو پہلے ہی بند کیا جا چکا ہے۔

لیکن منگل کی رات بالٹیمور کی سڑکوں پر دوسرے ہی مناظر نظر آئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلیکن منگل کی رات بالٹیمور کی سڑکوں پر دوسرے ہی مناظر نظر آئے

خیال رہے کہ مارٹن لوتھر کنگ کے قتل کے بعد یہ شہر میں اب تک کا سب سے پرتشدد فساد ہے۔

گذشتہ روز شہر بھر میں سینکڑوں مشتعل افراد نے سڑکوں پر آتش زنی کی، دکانوں کو لوٹا اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ تشدد کی تازہ لہر سیاہ فام شہری فریڈی گرے کے جنازے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

شہری حکام کو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے بروقت کارروائی نہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔

تاہم منگل کی رات بالٹیمور کی سڑکوں پر مختلف ہی مناظر تھے، لوگ کرفیو کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ بی بی سی کی تارا میکلیوی نے مشرقی لیکسنگٹن اور نارتھ گے سٹریٹ سے بتایا کہ وہاں سٹریٹ پارٹی جاری ہے جہاں موسیقی کو محسوس کیا جاسکتا ہے اور کار ہارن کی آواز بلند ہے۔

پانچ ہزار کے قریبی نیشنل گارڈز کے جوانوں کو تعینات کیے جانے امکان ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپانچ ہزار کے قریبی نیشنل گارڈز کے جوانوں کو تعینات کیے جانے امکان ہے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ہنگاموں اور توڑ پھوڑ نے پولیس کے خلاف پرامن احتجاج کو خراب کیا ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ جس طرح کے تشدد کا مظاہرہ کیا گیا اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ مظاہرین نہیں تھے اور وہ اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ لوٹ مار کر رہے تھے۔‘

منگل کورضاکاروں نے شہری عملے نے شہر کے متاثرہ علاقوں میں صفائی کا کام شروع کیا۔ منگل کو دوسرے دن بھی ان عمارتوں سے دھواں اٹھ رہا تھا جنھیں مظاہرین نے نذر آتش کر دیا تھا۔

شہر میں سو سے زیادہ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا
،تصویر کا کیپشنشہر میں سو سے زیادہ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا

حکام کے مطابق ان مظاہروں میں شامل دو سو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مظاہروں کے دوران سو سے زیادہ گاڑیوں اور پندرہ عمارتوں کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔

اس ماہ کی انیس تاریخ کو 25 سالہ افریقی نژاد امریکی فریڈی گرے پولیس کے تشدد کے دوران ریڑھ کی ہڈی میں شدید زخم آنے کی وجہ سے ایک ہفتے بے ہوشی کی حالت میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے تھے۔

امریکہ کا محکمۂ انصاف اس بات کی تحقیق کر رہا ہے کے فریڈی گرے کی ریڑھ کی ہڈی پر کب اور کہاں زخم آیا تھا۔ حکام نے ان چھ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے جو مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث تھے۔

شہر میں ایک ہفتے کا کرفیو لگا دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنشہر میں ایک ہفتے کا کرفیو لگا دیا گیا ہے

سوموار کو فریڈی گرے کی تدفین کے چند گھنٹوں بعد شہر میں ہنگامے شروع ہو گئے تھے۔

بالٹیمور کی میئر سٹیفنی رالنگ بلیک نے کہا کہ یہ بہت واضح ہے کہ انصاف کے لیے پرامن احتجاج کرنے والوں اور تخریب کار عناصر میں جو تشدد بڑھکانا چاہتے ہیں بہت فرق ہے۔

احتجاج کے دوسرے دن بھی بعض عمارتوں سے دھواں بلند ہو رہا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناحتجاج کے دوسرے دن بھی بعض عمارتوں سے دھواں بلند ہو رہا تھا

امریکی نیشنل گارڈز کی کمانڈر لنڈا سنگھ نے کہا ہے کہ پانچ ہزار جوانوں کو شہر کی سڑکوں پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ پوری قوت کے ساتھ شہر میں موجود رہیں گے اور بکتر بند گاڑیوں سے گشت کیا جائے گا لیکن شہر میں مارشل لاء نافذ نہیں ہوگا۔