فرگوسن میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ بہیمانہ حملہ ہے: ہولڈر

پولیس اہلکاروں میں سے ایک کو چہرے پر اور دوسرے کو کندھے پر گولی لگی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپولیس اہلکاروں میں سے ایک کو چہرے پر اور دوسرے کو کندھے پر گولی لگی

امریکہ کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ریاست مزوری کے شہر فرگوسن میں دو پولیس اہلکاروں پر فائرنگ ایک ’بہیمانہ حملہ‘ ہے جس سے پولیس میں اصلاحات کا عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ دونوں پولیس اہلکار جمعرات کو فرگوسن کے پولیس چیف کے مستعفی ہونے کے بعد ہونے والے مظاہرے کے دوران زخمی ہوئے تھے۔

فرگوسن پولیس کے سربراہ نے اپنے ادارے میں نسلی تعصب کے بارے میں ایک رپورٹ کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

سینٹ لوئیس کاؤنٹی کے پولیس چیف جان بیلمر کے مطابق زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں میں سے ایک کو چہرے پر اور دوسرے کو کندھے پر گولی لگی ہے۔

بیلمر نے بتایا کہ ’دونوں پولیس اہلکاروں کو گولیاں لگنے سے شدید زخم آئے لیکن وہ ہوش میں تھے اور انھیں ہسپتال سے طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔‘

اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا ہے کہ پولیس اہلکاروں پر اس قسم کا تشدد ’جارحانہ اور بغاوت آمیز‘ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس قسم کے تشدد کے احمقانہ واقعات ان اصلاحات کے لیے خطرہ ہیں جن پر فرگوسن اور ملک کے دیگر علاقوں میں پرامن مظاہرین کی کوششوں کی وجہ سے کئی ماہ سے کام ہو رہا ہے۔‘

 مظاہرین بدھ کو رات گئے فرگوسن پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن مظاہرین بدھ کو رات گئے فرگوسن پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہوئے تھے

پولیس نے اس حملے کی تحقیقات کے دوران دو مردوں اور ایک خاتون سے تفتیش کی ہے لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

مظاہرین بدھ کو رات گئے فرگوسن پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہوئے تھے۔

جان بیلمر نے بتایا کہ شروع میں یہ نسبتاً چھوٹا مظاہرہ تھا لیکن بعد میں ہجوم کو ہٹانے کے لیے تین گولیاں چلائی گئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’میں یہ سمجھتا ہوں کہ پولیس اہلکاروں کو اتفاقی گولیاں لگنے کے بجائے انھیں براہِ راست نشانہ بنایاگیا ہے۔‘

مظاہرین میں سے ایک شخص کیتھ روز نے بتایا کہ انھوں نے ایک پولیس اہلکار کو خون سے لت پت دیکھا جسے دوسرے پولیس اہلکار کھینچ کر لے جا رہے تھے۔

کیتھ کا کہنا تھا کہ پولیس نے مظاہرین کو وہیں روکے رکھا تا کہ ان سے بیان لیا جا سکے۔

پولیس نے اس حملے کی تحقیقات کے دوران دو مردوں اور ایک خاتون سے تفتیش کی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپولیس نے اس حملے کی تحقیقات کے دوران دو مردوں اور ایک خاتون سے تفتیش کی ہے

روز نے بتایا کہ مظاہرین وفاقی رپورٹ پر مزید کارروائی کرنے اور پولیس ڈیپارٹمنٹ سے مزید استعفوں کا مطالبہ کر رہے تھے۔

پولیس چیف ٹامس جیکسن چھٹے اہلکار ہیں جو مستعفی ہوئے ہیں یا ہٹائے گئے ہیں۔

انھوں نے احتجاج کرنے والوں اور چند رہنماؤں کی جانب سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر آغاز میں مزاحمت بھی کی تھی۔

جیکسن کو گذشتہ برس ایک 18 سالہ نوجوان مائیکل براؤن کو گولی مارنے کے بعد شدید تنقید اور مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔