’فرگوسن کی پولیس نسلی امتیاز روا رکھتی رہی ہے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ انھیں میسوری میں فرگوسن کی پولیس کے جانبدار ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
وزارت انصاف کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ پولیس محکمے کو بغیر کسی معقول شک و شبہ کے روکنے اور بغیر معقول وجہ کے گرفتار کرنے کے لیے مورد الزام ٹھہرا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ فرگوسن میں گذشتہ اگست میں ایک سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کے گولی مار کر ہلاک کیے جانے کے بعد شہری حقوق کے تحت کی جانے والی جانچ کے بعد یہ باتیں سامنے آئی ہیں۔
سفید فام پولیس افسر ڈیرن ولسن کے ہاتھوں ایک 18 سالہ سیاہ فام نوجوان کے قتل پر فرگوسن سمیت ملک گیر پیمانے پر احتجاج ہوئے تھے۔
دوسری جانب ایک علیحدہ رپورٹ میں یہ امید ظاہر کی جار رہی کہ پولیس افسر ڈیرن ولسن کو مسٹر براؤن کے گولی مارنے کے معاملے میں کسی شہری حقوق کی خلاف ورزی سے چھٹکارا مل جائے گا۔
پولیس کے جانبدار ہونے کے شواہد پولیس محکمے اور مختلف امریکی میڈیا سے بے نام بات چیت کے دوران سامنے آئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہno credit
بہرحال اس سلسلے میں سرکاری طور پر باضابطہ اعلان بدھ کو کیا جانے والا ہے۔
اس بارے میں پولیس محکمے اور شہر سے سرکاری ردعمل حاصل نہیں کیے جا سکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میسوری کے گورنر کے دفتر کے ایک ترجمان نے بتایا: ’ہم نے رپورٹ نہیں دیکھی ہے اس لیے اس پر کچھ کہہ نہیں سکتا۔‘
کہا جاتا ہے کہ اس رپورٹ میں پولیس پر سیاہ فام افراد کے خلاف شدید قوت کے استعمال کا الزام لگایا جائے گا اور یہ شواہد پیش کیے جائیں گے کہ سیاہ فام ڈرائیورز بےوجہ روکے جاتے ہیں اور ان کی تلاشی لی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ فرگوسن میں افریقی نسل کے امریکیوں کی آبادی 67 فی صد ہےاور واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سنہ 2012 سے 2014 کے درمیان گرفتار ہونے والے لوگوں میں وہ 93 فی صد ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی سامنے آنے والا ہے کہ عدالتوں میں بھی نسلی امتیاز برتا جاتا ہے جہاں 68 فی صد سیاہ فام کے مقدمے کو خارج کیے جانے کا امکان رہتا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق جانچ کرنے والوں نے یہ بھی پایا ہے کہ شہر کے بجٹ کو پورا کرنے کے لیے حکام جرمانے کی رقم کا استعمال کرتے ہیں۔
اگر حکام عدالت کے باہر اس معاملے کو طے کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو اس بارے میں وزارت انصاف شہری حقوق کا مقدمہ دائر کرسکتی ہے۔
اس جانچ کا حکم ستمبر میں اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے دیا تھا اور اکتوبر میں انھوں نے کہا تھا کہ فرگوسن کی پولیس میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ہے۔







