امریکہ میں ’نسلی امتیاز‘ پر تنازع، 31 افراد گرفتار

امریکی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے 31 افراد کو گرفتار کیا ہے جو مزوری ریاست کے فرگوسن قصبے میں پرتشدد مظاہروں میں شریک تھے۔

اس سے کچھ دیر قبل امریکی صدر براک اوباما نے عوام سے صبر و تحمل کی تلقین کی ہے، جبکہ امریکی اٹارنی جنرل نے بدھ کے روز وہاں کا دورہ کرنے کی بات کہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق حفاظتی لباس میں ملبوس مسلح پولیس نے کئی لوگوں کو گرفتار کر لیا۔

واضح رہے کہ پولیس نے تقریباً دس دن قبل ایک سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد وہاں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مائیکل براؤن کی ہلاکت کے بعد نسلی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمائیکل براؤن کی ہلاکت کے بعد نسلی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

مقامی پولیس کے ترجمان رون جانسن نے کہا کہ ’پولیس اس وقت حرکت میں آئی جب مظاہرین نے بوتلیں پھینکنا شروع کر دیں۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ فائرنگ میں دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل امریکی اٹارنی جنرل ایریک ہولڈر نے فرگوسن میں جاری کشیدگی پر قابو پانے کے لیے وہاں کا دورہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

ایریک ہولڈر نو جون کو پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نوجوان مائیکل براؤن کی ہلاکت کی وفاقی سطح پر تحقیقات کرنے والے حکام سے ملاقات کریں گے۔

دریں اثنا امریکی صدر براک نے فرگوسن کے مقامی لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ آپس میں ’ہم آہنگی‘ پیدا کریں۔

فائرنگ کے واقعے سے کئی دن تک فرگوسن میں عدم استحکام رہا۔

ایریک ہولڈر نے ایک بیان میں کہا کہ وہ بدھ کو بذات خود فرگوسن جا کر ایف بی آئی کے تفتیش کاروں اور وکلا سے ملاقات کریں گے۔

پولیس اہلکاروں نے کئی مظاہرین کو گرفتار کیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپولیس اہلکاروں نے کئی مظاہرین کو گرفتار کیا

انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس حقیقت کا احساس ہے کہ لوگوں میں مائیکل براؤن کی ہلاکت کی وجوہات جاننے میں دلچسپی ہے۔ لیکن میں لوگوں سے صبر و تحمل کی اپیل کرتا ہوں تاکہ ہم یہ تحقیقات کر سکیں۔‘

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مائیکل براؤن کی موت کی وجوہات جاننا قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد قائم کرنے میں ’ایک اہم قدم‘ ہے۔

صدر براک اوباما نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ وہ نوجوان لڑکے کی ہلاکت پر غم و غصے کے اظہار کو سمجھتے ہیں لیکن لوٹ مار کرنے، اسلحہ لے کر گھومنے اور پولیس پر حملے کرنے سے کشیدگی بڑھتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔‘

مظاہرین میں سے ایک کے چہرے پر آنسو گیس کا اثر زائل کرنے کے لیے دودھ پھینکا گیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمظاہرین میں سے ایک کے چہرے پر آنسو گیس کا اثر زائل کرنے کے لیے دودھ پھینکا گیا

سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کو پولیس نے گذشتہ ہفتے گولی مار کر ہلاک کیا تھا جس کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

جس پولیس اہلکار نے مائیکل براؤن پر گولی چلائی تھی انھیں معطل کر دیا گیا ہے اور ان کی تنخواہ روک دی گئی ہے۔

براؤن کے خاندان والوں کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ افسر کو گرفتار کر کے سزا دی جائے۔

براؤن کے خاندان کی طرف سے ایک ڈاکٹر نے مائیکل براؤن کے لاش کی پوسٹ مارٹم کیا ہے جبکہ محکمۂ انصاف کی طرف سے ان کے لاش کا ایک اور پوسٹ مارٹم ہونا ابھی باقی ہے۔