امریکہ میں مظاہرین کرفیو کی خلاف ورزی پر بضد، پولیس کا آنسو گیس کا استعمال
،تصویر کا کیپشنامریکی ریاست مزوری کے فرگوسن قصبے میں نیشنل گارڈز نے دستے بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایک سیاہ فام نوجوان کی ہلاکت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدامنی پر قابو پایا جا سکے۔
،تصویر کا کیپشنریاست کے گورنر جے نکسن نے اس حکم نامے پر دستخط کیے جس کا مقصد ’امن کا قیام اور فرگوسن کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔‘ یہ فیصلہ پولیس کے ساتھ مقامی شہریوں کی جھڑپوں کے بعد کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنپولیس کا کہنا ہے کہ ان پر حملے کیے گئے جس کے بعد جوابی کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ بلوے سے نمٹنے کی وردیاں پہنے پولیس اہلکاروں نے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس استعمال کی تاکہ مظاہرین کو منتشر کیا جا سکے۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین نے اتوار کی رات نافذ کیے جانے والے کرفیو کو نظر انداز کیا اور قصبے کی مرکزی سڑک پر مارچ کیا۔
،تصویر کا کیپشنمائیکل براؤن نامی سیاہ فام نوجوان کی ایک سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت کے نتیجے میں اس اکثریتی سیاہ فام مضافات میں نسلی فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپولیس اہلکار ڈیرن ولسن نے براؤن کو ٹریفک کے نظام میں خلل ڈالنے پر روکا اور اطلاعات کے مطابق انھیں گولیاں ماریں۔
،تصویر کا کیپشنمزوری کے گورنر نے پولیس کی جانب سے براؤن سے متعلقہ ایک سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کرنے پر بھی تنقید کی جس میں براؤن اپنی موت سے کچھ دیر قبل ایک دکان سے کچھ چوری کر رہا تھا۔ جے نکسن نے کہا کہ یہ بظاہر ہلاک شدہ شخص ’پر بہتان لگانے‘ کی کوشش تھی اور اس کی وجہ سے ’جذبات مشتعل ہوئے۔‘
،تصویر کا کیپشنگورنر جے نکسن نے مظاہرین پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ پرتشدد کارروائیاں مائیکل براؤن کے خاندان کے خلاف ہیں اور اس علاقے کے ان لوگوں کے خلاف جو انصاف کے خواہاں ہیں اور اپنے گھروں میں محفوظ رہنا چاہتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپولیس نے الزام لگایا کہ ان کے منع کرنے کے باوجود بعض مظاہرین ایک پولیس چوکی کی جانب بڑھتے رہے۔
،تصویر کا کیپشنآنسو گیس اور جھڑپوں کے نتیجے میں کچھ لوگوں کو مقامی فاسٹ فوڈ ریستوران میں پناہ لینا پڑی۔
،تصویر کا کیپشنبعض دوسرے افراد کو آنسو گیس کے اثرات زائل کرنے کے لیے پانی اور ادویات استعمال کرنا پڑے جو پولیس نے مظاہرین کے خلاف استعمال کی۔
،تصویر کا کیپشنان مظاہروں میں ’ہینڈز اپ، ڈونٹ شوٹ‘ یعنی ہاتھ اوپر اٹھاؤ اور گولی مت مارو ایک اہم نعرہ بن گیا ہے۔ مائیکل براؤن حال ہی میں گریجویٹ سکول سے فارغ ہوئے تھے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک پرائیویٹ پوسٹ پارٹم کے نتیجے میں ظاہر ہوا ہے کہ انھیں چھ گولیاں ماری گئیں جن میں سے دو سر کے اندر لگیں۔