’پولیس کو اصلاحات کی ضرورت ہے، کانگریس رقم دے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ کے صدر براک اوباما نے پولیس کی بہتر تربیت، اس پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے اور انھیں کیمروں سے لیس کرنے کے لیے کانگریس سے 26 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی درخواست کی ہے۔
امریکی صدر نے یہ درخواست ریاست مزوری کے قصبے فرگوسن میں غیرمسلح سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کے قتل پر پولیس اہلکار کو مجرم قرار نہ دینے کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے ایک ہفتے بعد کی ہے۔
صدر اوباما نے کہا ہے کہ ’یہ صرف فرگوسن کا نہیں بلکہ ایک قومی سطح کا مسئلہ ہے لیکن یہ قابل حل ہے۔‘
صدر اوباما نے پولیس میں بہتری کے اعلان سے ایک دن پہلے اتوار کو مختلف شہروں کے میئرز، شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے رہنماؤں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام سے وائٹ ہاؤس میں ملاقاتیں کی تھیں۔
صدر اوباما نے ان ملاقاتوں میں فوج کے زائد ٹیکٹکل سازو سامان کو پولیس کے محکمے کو فراہم کرنے کے پروگرام پر تبادلہ خیال کیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے وفاقی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ ایسی تجاویز دیں جس سے اس پروگرام سے مقامی پولیس فورس’ فوجی خصوحیات کی حامل‘ نہ بن جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر اوباما نے اس کے ساتھ کانگریس سے 26 کروڑ 30 لاکھ ڈالر فراہم کرنے کی درخواست کی تاکہ پولیس اہلکاروں کی بہتر تربیت، ان کی وردی پر کیمرے نصب کرنے اور عوام میں ان کے اعتماد کو بحال کرنے پر خرچ کیے جا سکیں۔
کانگریس کی منظوری سے ملنے والی رقم آئندہ تین سال کے دوران خرچ کی جائے گی جس کے تحت وردی پر نصب ہونے والے 50 ہزار کیمرے خریدے جائیں گے اور اس کے محکموں میں اصلاحات کی جائیں گی۔
وردی پر کیمرے نصب ہونے سے پولیس کے شہریوں سے ہونے والے فرگوسن جیسے متنازع تصادم کی صورت میں اہم شواہد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
صدر اوباما نے مزید کہا کہ پیر کو وائٹ ہاؤس میں نوجوانوں نے مجھے جس طرح امتیازی سلوک کی کہانیاں سنائی ہیں اس سے’ میرا یہ یقین کہ امریکہ کر سکتا ہے کو ٹھیس پہنچتی ہے۔‘
ایک دن پہلے اتوار کو مائیکل براؤن کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار ڈیرن ولسن کے وکیل نے کہا تھا کہ وہ مستعفی ہو گئے ہیں۔
ایک جیوری کی جانب سے ولسن پر فردِ جرم عائد نہ کرنے کے فیصلے کے بعد فرگوسن اور کئی دوسرے امریکی شہروں میں بلوے ہوئے تھے جس میں درجن بھر عمارتوں کے علاوہ پولیس کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔
اس سے ملک بھر میں امریکہ کی سیاہ فام آبادی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعلقات پر بحث چھڑ گئی تھی۔







