عدالتی فیصلے سے ناخوش امریکی عوام کا پرتشدد احتجاج
،تصویر کا کیپشنامریکہ کی ریاست مزوری میں سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے مقدمے میں گولی چلانے والے پولیس اہلکار پر فردِ جرم عائد نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمائیکل براؤن کے اہلِ خانہ نے اس فیصلے پر ’شدید مایوسی‘ کا اظہار کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنفرگوسن میں پولیس اہلکار ڈیرن ولسن نے 18 سالہ مائیکل براؤن کو رواں برس نو اگست کوگولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنامریکی صدر اور مائیکل براؤن کے اہلِ خانہ کی جانب سے پرامن رہنے کی درخواست کے باوجود فیصلے کے بعد فرگوسن میں ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے دوران متعدد عمارتیں نذرِ آتش کر دی گئیں۔
،تصویر کا کیپشنپولیس اہلکار کے حق میں فیصلے کی خبر عام ہوتے ہی پیر کی شب سینکڑوں مظاہرین فرگوسن میں جمع ہوگئے جس کے بعد ان کی پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں اور مقامی دکانوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا اور لوٹ مار کے بعد انھیں آگ لگا دی۔
،تصویر کا کیپشنپولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور علاقے میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
،تصویر کا کیپشنمائیکل براؤن کے اہلِ خانہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم شدید مایوس ہیں کہ ہمارے بچے کا قاتل اپنے کیے کی سزا نہیں بھگتے گا۔‘
،تصویر کا کیپشنمائیکل براؤن کے قتل کے باعث علاقے میں نسلی کشیدگی میں اضافہ ہوا اور زیادہ تر سیاہ فام افراد یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ پولیس اہلکار ولسن پر قتل کا مقدمہ چلایا جائے۔