فرگوسن میں گولی چلانے والے مجرم ہیں: براک اوباما

جس کسی نے بھی گولی چلائی انھیں اس معاملے سے الگ نہیں کیا جانا چاہیے، وہ مجرم ہیں: براک اوباما

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجس کسی نے بھی گولی چلائی انھیں اس معاملے سے الگ نہیں کیا جانا چاہیے، وہ مجرم ہیں: براک اوباما

امریکہ کے صدر براک اوباما نے ریاست مزوری کے قصبے فرگوسن میں دو پولیس اہلکاروں پر گولی چلائے جانے کے اقدام کو مجرمانہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کوئی معافی نہیں ہو گی۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ مظاہرین کی شکایات جائز ہیں، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجرموں کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ بدھ کو فرگوسن میں پولیس چیف کی جانب سے استعفے کے بعد ہونے والے ایک مظاہرے میں پیش آیا تھا۔

جمعرات کو شہر میں جاری ر ہنے والے مظاہرے پرامن تھے جبکہ زخمی ہونے والے دونوں پولیس اہلکاروں کو بھی ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ فرگوسن میں گذشتہ سال ایک 18 سالہ سیاہ فام لڑکے کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔

فرگوسن پولیس کے سربراہ نے اپنے ادارے میں نسلی تعصب کے بارے میں ایک رپورٹ کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

بدھ کو فائرنگ کے واقعے میں ایک پولیس اہلکار کو چہرے اور دوسرے کو کندھے پر اس وقت گولی لگی جب مظاہرین رات کو گھر کی جانب جا رہے تھے۔

مظاہرے کی قیمت

اے بی سی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ فرگوسن میں جو کچھ بھی ہوتا رہا ہے وہ تکلیف دہ اور قابلِ مذمت ہے مگر مجرموں کے لیے کوئی معافی نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جس کسی نے بھی گولی چلائی انھیں اس معاملے سے الگ نہیں کیا جانا چاہیے، وہ مجرم ہیں۔‘

فرگوسن میں گذشتہ سال اگست سے حالات کشیدہ ہیں۔ نومبر میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی تھی جب جیوری نے سیاہ فام نوجوان پر گولی چلانے والے پولیس اہلکار ڈیرن ولسن پر فردِ جرم عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

فرگوسن میں سیاح فام نوجوان کی ہلاکت کے بعد گذشتہ آٹھ ماہ سے احتجاج ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفرگوسن میں سیاح فام نوجوان کی ہلاکت کے بعد گذشتہ آٹھ ماہ سے احتجاج ہو رہا ہے

اس فیصلے کے بعد سینٹ لوئس اور دیگر 12 شہروں میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

مظاہرین نے جمعرات کو پولیس کے ظلم کا شکار ہونے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔ اس کے بعد انھوں نے پولیس کے دفتر کا رخ کیا۔

فرگوسن میں موجود بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس بار مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس قطار در قطار نہیں کھڑی تھی اور نہ ہی پولیس نے مظاہرین میں سے کسی کو حراست میں لیا۔ اس سے پہلے جو بھی گرفتاریاں ہوئی تھیں ان تمام مظاہرین کو رہا کر دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ فرگوسن میں آٹھ ماہ سے جاری احتجاج میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پولیس اہلکار کو گولی لگی ہے۔

.