سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے خلاف امریکہ میں مظاہرے

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹیمور میں پولیس کی حراست میں ایک سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے خلاف امریکہ کے مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے۔
نیو یارک کے یونین سکوائر میں سینکڑوں افراد نے اکھٹے ہو کر پولیس کی حراست میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا جہاں پولیس نے کم سے کم 60 مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی اور بوسٹن میں احتجاجی ریلیاں نکالیں گئیں۔
امریکہ میں حالیہ دنوں میں نہتے سیاہ فام لوگوں پر پولیس کی کارروائی اور اس میں سیاہ فام لوگوں کے مارے جانے کے معاملے سامنے آئے ہیں۔
امریکہ کی ریاست مزوری کے علاقے فرگوسن میں گذشتہ برس ایک سیاہ فام کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک میں پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال پر بحث جاری ہے۔
خیال رہے کہ اس 19 اپریل کو 25 سالہ افریقی نژاد امریکی فریڈی گرے پولیس کے تشدد کے دوران ریڑھ کی ہڈی میں شدید زخم آنے کی وجہ سے ایک ہفتے بے ہوشی کی حالت میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے تھے۔
امریکہ کا محکمۂ انصاف اس بات کی تحقیق کر رہا ہے کے فریڈی گرے کی ریڑھ کی ہڈی پر کب اور کہاں زخم آیا تھا۔ حکام نے ان چھ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے جو مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث تھے۔
سوموار کو فریڈی گرے کی تدفین کے چند گھنٹوں بعد ہی شہر میں ہنگامے شروع ہو گئے تھے جس کے بعد شہر میں کرفیو نافد کر دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مظاہرین نے نیو یارک میں بالٹیمور کے افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ’نو جسٹس، نو پیس اور ہینڈز اپ، ڈونٹ شوٹ‘ کے نعرے لگائے۔







