سیاہ فام کی ہلاکت پر مظاہروں کے بعد بالٹیمور میں ایمرجنسی

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی ریاست میری لینڈ کے سب سے بڑے شہر بالٹیمور میں ایک سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد وہاں ہنگامی صورت حال کا اعلان کر دیا گيا ہے۔
شہر میں ایک ہفتے کے کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ وہاں 5000 نیشنل گارڈز تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ بالٹیمور میں سنیچر کو احتجاجی مظاہرہ سینڈ ٹاؤن کی ایک ہاؤسنگ سکیم سے شروع ہوا جہاں پولیس نے 12 اپریل کو سیاہ فام شہری فریڈی گرے کو گرفتار کیا تھا اور 19 اپریل کو ان کی دورانِ حراست ہلاکت ہو گئی تھی۔
گذشتہ شب ایک زیرِ تعمیر عمارت شعلوں میں نظر آئی جبکہ اس سے قبل مظاہرے میں درجنوں افراد اور پولیس میں تصادم ہوا۔ حکام کے مطابق اس میں 15 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
وزارتِ انصاف اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ فریڈی گرے کی ریڑھ کی ہڈی میں کہاں اور کب چوٹ آئی تھی۔
حکام نے اس معاملے میں چھ پولیس افسروں کو معطل کر دیا ہے جبکہ تازہ جھڑپ پیر کو گرے کے جنازے کے بعد شروع ہوئی۔
بالٹیمور کی میئر اسٹیفینی رالنگز بلیک نے کہا کہ ’انصاف طلب کرنے والے پرامن مظاہروں‘ اور ’تشد بھڑکانے والے ٹگھوں‘ میں واضح فرق تھا۔
حالات پر قابو پانے کے لیے حکام تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کار لا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تشدد کے بعد لوٹ مار اور آتشزدگی کے واقعات شہر میں متعدد مقامات پر نظر آئے۔

،تصویر کا ذریعہAP
میئر نے کہا: ’جو بربادی ہم نے آج شام دیکھی ہے وہ دلدوز ہے۔‘
انھوں نے شب دس بجے سے صبح پانچ بجے تک کے کرفیو کا اعلان کیا ہے۔
نیشنل گارڈز کی کمانڈر لنڈا سنگھ نے کہا کہ تقریبا پانچ ہزار فوجی سڑکوں پر تعینات کیے جائیں گے۔
انھوں نے کہا: ’ہم لوگ بڑی فوجی قوت کے ساتھ سڑکوں پر ہوں گے۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بکتر بند گاڑیاں بھی استعمال میں لائی جا سکتی ہیں لیکن شہر مارشل لا کے تحت نہیں ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اطلاعات کے مطابق وسط اٹلانٹک علاقے سے پولیس افسروں کو بھی تعینات کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل صدر براک اوباما نے تمام ضروری امداد فراہم کیے جانے کی بات کہی تھی۔
خیال رہے کہ اس قبل بھی حالیہ چند ماہ کے دوران کئی سیاہ فام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف امریکہ کے مختلف علاقوں میں مظاہرے ہوئے ہیں اور اس بابت سیاہ فام شہریوں میں تشویش کے ساتھ غم و غصہ بھی دیکھا گیا تھا۔







