بالٹیمور میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے خلاف شدید احتجاج

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی ریاست میری لینڈ کے سب سے بڑے شہر بالٹیمور میں پولیس کی حراست میں ایک سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔
بالٹیمور میں سنیچر کو احتجاجی مظاہرہ سینڈ ٹاؤن کی ایک ہاؤسنگ سکیم سے شروع ہوا جہاں سے پولیس نے 12 اپریل کو سیاہ فام شہری فریڈی گرے کو گرفتار کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق احتجاج میں شامل چند مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کے شیشے توڑے جس کے بعد پولیس نے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔
ان کی جڑواں بہن فریڈریکا گرے نے عوام کو پرامن رہنے کی درخواست کی ہے۔اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ’ میرا خاندان یہ کہنا چاہتا ہے کہ کیا آپ سب لوگ اس تشدد کو ختم کر سکتے ہیں، فریڈی گرے ایسا نہیں چاہےگا۔‘
خیال رہے کہ فریڈی گرے کو دورانِ حراست ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگی تھی اور ایک ہفتے تک ہسپتال میں کومے میں رہنے کے بعد وہ انتقال کر گئے تھے۔
اس واقعے کے بعد چھ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔
امریکہ میں گذشتہ چند ماہ کے دوران پولیس کی حراست میں سیام فام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اس ضمن میں عوامی غم و غصے میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
بالٹیمور میں 25 سال فریڈی گرے کی موت کے بعد مظاہرے جاری ہیں اور سنیچر کے مظاہرے کو شہر کی تاریخ کے بڑے مظاہروں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول کے مطابق مظاہرے کے دوران ’انصاف نہیں، امن نہیں، تعصب پسند پولیس نہیں‘ کے نعرے لگائے گئے اور اس طرح کے احتجاجی الفاظ فریڈی کی موت کے بعد ٹوئٹر ہینڈل #FreddieGray پر معمول بن گئے ہیں۔
سنیچر کے مظاہرے کا انعقاد پیپلز پاور اسمبلی نے کیا تھا اور اس کا آغاز سینڈ ٹاؤن سے ہوا جہاں سے پولیس نے فریڈی گرے کو گرفتار کیا تھا اور ویسٹرن ڈسٹرک پولیس سٹیشن پر اختتام پذیر ہوا۔ اس پولیس سٹیشن پر اس وقت ایک ایمبولینس کو بلایا گیا تھا جب پولیس کی گاڑی میں زخمی حالت میں گریڈی گرے پہنچے تھے۔
مظاہرے کے دوران کئی مظاہرین نے سڑک پر لیٹ کر ٹریفک روک دی۔
اس کے علاوہ سٹی ہال کے باہر سیاہ فام وکلا کی تنظیم نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔
پولیس کمشنر انتھونی بیٹس نے جمعے کو ایک نیوز کانفرنس میں تسلیم کیا تھا کہ پولیس اہلکار گریڈی گرے کو درکار طبی امداد بروقت نہیں پہنچا سکے۔
پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ یکم مئی کو منظرعام پر لائی جائے گی تاہم مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ معطل کیے جانے والے پولیس اہلکاروں پر فردِ جرم عائد کی جائے۔







