نیویارک کی جیل سے قیدیوں کا فرار ’بحرانی صورتحال‘ ہے

پولیس تحقیقات کر رہی ہے کہ قیدیوں نے جیل کاٹنے کے لیے آلات کہاں سے حاصل کیے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپولیس تحقیقات کر رہی ہے کہ قیدیوں نے جیل کاٹنے کے لیے آلات کہاں سے حاصل کیے

امریکی ریاست نیویارک کی ایک انتہائی حساس سکیورٹی والی جیل سے قتل کے دومجرموں کے فرار کو ریاست کے گورنر نے بحرانی صورت حال قرار دیا ہے۔

48 سالہ رچرڈ میٹ کو اغوا اور قتل کے جرم میں عمر قید ہو تھی اور 34 سالہ ڈیوڈ سویٹ کو ایک پولیس افسر کو قتل کرنے پر سزا سنائی گئی تھی۔ ان دونوں نے ڈینومورا میں واقع جیل سے فرار کے لیے جدید برقی آلات سے سٹیل کی دیوار کاٹی تھی۔

گورنر اینڈریو کوومو کا کہنا ہے کہ ’یہ خطرناک لوگ ہیں اور سنگین جرائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

فرار قیدیوں کے متعلق معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ریاست نے ایک لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے۔

گورنر کوومو کے مطابق اس جیل سے گذشتہ ڈیڑھ سو برسوں میں یہ فرار کا پہلا واقعہ ہے۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق قدیوں نے برقی آلات کی مدد سے پہلے حوالات کی سٹیل سے بنی ہوئی دیوار کاٹی اور پھر زیرِ زمین پائپوں کے راستے قریبی سڑک پر واقع مین ہول سے باہر نکل کر فرار ہو گئے۔

قدیوں نے برقی آلات کی مدد سے حوالات کی سٹیل سے بنی ہوئی دیوار کاٹی

،تصویر کا ذریعہna

،تصویر کا کیپشنقدیوں نے برقی آلات کی مدد سے حوالات کی سٹیل سے بنی ہوئی دیوار کاٹی

جمعے کی رات کو فرار ہونے والے قیدیوں نے جیل حکام کو دھوکہ دینے کے لیے بستر ایسے تر تیب دیے ہوئے تھے کہ ان کو دیکھ کر ایسے لگتا تھا کہ جیسے وہ اپنے بستر پر سو رہے ہوں۔

واضح رہے کہ جیل حکام کو قدیوں کے فرار کے بارے میں اگلی صبح پتہ چلا تھا۔

گورنر کوومو کا کہنا ہے کہ کسی نہ کسی نے تو ان کے فرار کی کوشش کی آواز سنی ہوگی اور جب ان کو دوبارہ گرفتار کیا جائے گا تو اس حوالے سے مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

’ ہم تفصیل سے اس بات کا جائزہ لیں گے کہ انھوں نے کیا کیا اور کیسے کیا تا کہ دوبارہ ایسا واقعہ رونما نہ ہو۔‘

پولیس تحقیقات کر رہی ہے کہ قیدیوں نے جیل کاٹنے کے لیے آلات کہاں سے حاصل کیے۔

دو سو سے زائد پولیس افسران سراغ رساں کتوں اور ہیلی کوپٹروں کی مدد سے مفرور قیدیوں کو تلاش کر رہے ہیں۔