امریکہ: کیا ہر نوے سیکنڈ میں ایک بچہ لاپتہ ہوتا ہے؟

 امریکہ میں سنہ 1997 میں تقریباً دس لاکھ افراد کے گم ہونے کی شکایات موصول ہوئی تھیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن امریکہ میں سنہ 1997 میں تقریباً دس لاکھ افراد کے گم ہونے کی شکایات موصول ہوئی تھیں

جب کسی بچے کی گمشدگی کی خبر آتی ہے تو ذہن میں خود بخود خیال آتا ہے کہ یقیناً کچھ برا ہوا ہوگا لیکن بعض اوقات حقیقت اس سے بہت مختلف ہوتی ہے۔

امریکہ میں بچوں کے لاپتہ ہونے کے بارے میں جو اعداد وشمار ہیں ان کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔

حال ہی میں واشنگٹن کے ایک ٹی وی چینل نے بچوں کے تحفظ سے متعلق آگہی کی مہم کا آغاز کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر نوے سیکنڈ میں ایک بچہ لاپتہ ہوتا ہے۔

پچھلے چند برسوں میں امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ اعداد وشمار اکثر سامنے لائے جاتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا کرنے میں نیت صاف ہوتی ہے۔

یہ اعداد وشمار بہت پریشان کن ہیں کیوں کہ آپ سمجھتے ہیں کہ لاپتہ ہونے والے بچوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔

لیکن یہ نوے سیکنڈ والا ہندسہ آیا کہاں سے ہے؟

اس کی بنیاد سنہ 2002 میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے کرائی گئی ایک تحقیق ہے۔

اس تحقیق کے لیے پولیس اور والدین سمیت دیگر ذرائعِ سے معلومات حاصل کی گئیں جس سے معلوم ہوا کہ سنہ 1999 میں 797,500 بچوں کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔

اس کے بعد سے اب تک اس بارے میں کوئی بڑی تحقیق نہیں کی گئی۔

لیکن اس تحقیق میں بچے کے گمشدہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟

اس تحقیق میں شامل یونیورسٹی آف نیو ہیمشائر کے پروفیسر ڈیوڈ فینکلہور کا کہنا ہے کہ ’بچوں کے گمشدہ ہونے کے تصور کے بارے میں ابہام ہے۔‘

بچوں کے لاپتہ ہونے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ گھر سے بھاگ گئے ہوں یا وقت پر گھر نہ پہنچے ہوں، اس طرح کی صورتحال پریشان کن تو ہو سکتی ہے لیکن ایک بچے کے اغوا ہونے سے کافی مختلف ہے۔

پروفیسر ڈیوڈ فینکلہور کے مطابق ’کسی اجنبی کے ہاتھوں اغوا ہونے والے بچوں کی تعداد بہت کم ہے۔‘

درحقیقت اس تحقیق میں بطور گمشدہ درج آدھے سے زیادہ بچے وہ تھے جن کے بارے میں ان کے والدین نے سمجھا کے وہ لاپتہ ہو گئے ہیں لیکن وہ جلد ہی مل گئے تھے۔

اس کے علاوہ ایسے شواہد ملے ہیں کے گزشتہ 13 برس میں اس تحقیق کے سامنے آنے کے بعد سے اس مسئلے میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔

سنہ 2014 میں ایف بی آئی کو 6 لاکھ افراد کے لاپتہ ہونے کی شکایات موصول ہوئی تھیں جن میں زیادہ تعداد 18 سال سے کم عمر لوگوں کی تھی۔

واضح رہے کہ سنہ 1997 میں تقریباً دس لاکھ افراد کے لاپتہ ہونے کی شکایات موصول ہوئی تھیں لیکن تب سے ہر سال اس تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔

پروفیسر ڈیوڈ فینکلہور کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی سے بچوں کو محفوظ بنانے میں کافی مدد ملی ہے۔

’سب سے بڑی تبدیلی موبائل فون کا حصول ہے جس کی وجہ سے والدین بچوں سے رابطے میں رہتے ہیں اس لیے گمدشدگی کی شکایت اب کم درج ہوتی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’خیال رہے کہ امریکہ میں جرائم میں بہت حد تک کمی آئی ہے۔ بچوں کے خلاف جرائم، جنسی جرائم اور قتل جیسے جرائم میں کمی آئی ہے۔ اس لیے کافی حد تک ممکن ہے کہ بچوں کے اغوا میں بھی کمی آئی ہو۔‘