’ایف بی آئی کا مقدمات میں ناقص گواہیاں پیش کرنے کا اعتراف‘

تاحال 268 مقدمات کے دوبارہ جائزے کے دوران 95 فیصد مقدمات میں فارسینک تجزیے استغاثہ کے حق میں بڑھا چڑھا کر بیان کیے گئے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنتاحال 268 مقدمات کے دوبارہ جائزے کے دوران 95 فیصد مقدمات میں فارسینک تجزیے استغاثہ کے حق میں بڑھا چڑھا کر بیان کیے گئے

واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے محکمہ انصاف اور ایف بی آئی نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ سنہ 2000 سے قبل دو دہائیوں سے زائد عرصہ تک ایف بی آئی کی لیبارٹری کے بالوں کا خوردبینی جائزہ لینے والے یونٹ کے تقریباً تمام معائنہ کاروں نے جرائم کے مقدمات میں ناقص گواہیاں پیش کی تھیں۔

اتوار کو اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق تاحال 268 مقدمات کے دوبارہ جائزے کے دوران 95 فیصد مقدمات میں 28 میں سے 26 معائنہ کاروں نے فارسینک تجزیے استغاثہ کے حق میں بڑھا چڑھا کر بیان کیے۔

یہ اعداد و شمار نیشنل ایسوسی ایشن آف کرمنل ڈیفنس لائرز اور انسوسنس پراجیکٹ سے حاصل کیے گئے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ نتائج حکومت کے ساتھ ان تنظیموں کے معاہدے کے بعد پیش کیے گئے جس کے تحت یہ تنظیمیں سزا یافتہ مقدمات کے دوبارہ جائزوں کے لیے حکومت کی معاونت کر رہی ہیں۔

معاہدے کے تحت پہلے 200 مقدمات کے دوبارہ جائزوں کے بعد تنائج پیش کرنا طے پایا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی خبر کے مطابق ان مقدمات میں 32 مدعا علیہ کو سزائے موت کی سزا سنائی گئی تھی جن میں سے 14 کو سزائے موت دی جا چکی ہے یا جیل کے اندر ان کا انتقال ہوچکا ہے۔

وفاقی انتظامیہ نے سنہ 2012 میں بالوں کے فارنسک تجزیوں میں نقائص سے متعلق رپورٹ کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا تھا

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشنوفاقی انتظامیہ نے سنہ 2012 میں بالوں کے فارنسک تجزیوں میں نقائص سے متعلق رپورٹ کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا تھا

ایف بی آئی اور محکمہ انصاف کی جانب سے واشنگٹن پوسٹ کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق وہ تمام مقدمات پر توجہ دینے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے اور وہ ’اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ متاثرہ مدعا علیہ کو ماضی کی غلطیوں کے بارے میں بتایا جائے گا اور ہر موقع پر انصاف فراہم کیا جائے گا۔‘

بیان کے مطابق ’محکمہ اور ایف بی آئی مستقبل فارینزک سائنس کے تمام شعبہ جات سمیت بالوں کے تجزیے کی درستی کو یقینی بنانے کے بھی پابند ہیں۔‘

اخبار کے مطابق ایف بی آئی تمام مقدمات کے دوبارہ جائزے لینے کے عمل کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہی ہے تاہم انھوں نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ سنہ 2012 تک بالوں کا معائنہ کرنے والوں میں عدالت کو پیش کیے جانے والے نتائج کی سائنسی معیار کے مطابق لکھنے کی اہلیت غیرمعیاری تھی۔

وفاقی انتظامیہ نے سنہ 2012 میں واشنگٹن پوسٹ کی بالوں کے فارنسک تجزیوں میں نقائص سے متعلق رپورٹ کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

فارینزک رپورٹس میں نقائص کے باعث خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ 1970 کی دہائی سے سینکڑوں بےقصور افراد کو قتل، ریپ اور دیگر پرتشدد جرائم میں مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس جائزے سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ ایف بی آئی ماہرین نے گواہی دی کہ جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے بڑی حد تک ملزمان کے بالوں سے ملتے ہیں، جس ان دعوؤں کو تقویت ملتی ہے کہ تفتیشی عمل میں گمراہ گن اور نامکمل نتائج اخذ کیے گئے۔