ایم آئی فائیو ایجنٹس امریکی عدالت میں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
برطانیہ کے خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے ایجنٹس نے وِگ اور میک اپ کے ذریعے اپنی شناخت پوشیدہ رکھتے ہوئے امریکی عدالت کو بتایا ہے کہ انھوں نے کس طرح ایک آدمی کا پتہ چلایا ہے جو مبینہ طور پر بم دھماکے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
واضح رہے کہ مانچسٹر اور نیو یارک میں بم دھماکے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں گرفتار عابد نصیر نامی شخص کو سنہ 2013 میں برطانیہ سے امریکہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
عابد نصیر کا موقف ہے کہ وہ مجرم نہیں ہیں اور انھوں نے کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
اگر عابد نصیر پر عائد کیے جانے والے الزامات ثابت ہو گئے تو انھیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
اس مقدمے کے استغاثہ نے برطانیہ کے خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے ایجنٹس کو ابتدائی بیان دینے کے لیے طلب کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
استعغاثہ نے ایم آئی فائیو کے ایجنٹس کی گواہی کو اہم کہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے عابد نصیر کا 2009 میں پتا چلایا تھا اور صرف وہ مانچسٹر شاپنگ سینٹر پر مبینہ حملے کی تیاری کے گواہ بھی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی جج نے اس سے قبل برطانوی ایجنٹس کی حفاظت کے پیشِ نظر ان کی شناخت چھپانے کی منظوری دی تھی۔
جج نے میڈیا کے اعتراضات سامنے آنے کے بعد خاکے بنانے والے آرٹسٹ کو حکم دیا کہ وہ برطانوی ایجنٹس کی ظاہری شکل کو مزید بہتر بنائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایم آئی فائیو کے ایجنٹس نے عابد نصیر کی جانب سے مانچٹسر شاپنگ سینٹر کے دورے میں ان کا پیچھا کیا جہاں انھوں نے مبینہ طور پر ایک مسجد اور دیگر جگہوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
اس سے قبل عابد نصیر کو مانچسٹر کے شاپنگ سینٹرز پر حملے کرنے کی سازش تیار کرنے کے الزام میں برطانیہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اگرچہ ان کے قبضے سے کوئی دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا تھا تاہم انھیں اور دیگر افراد کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔







