امریکی کانگریس کی عمارت پر ’حملے کی کوشش ناکام‘

کورنیل نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ وہ واشنگٹن جا کر کانگریس کی عمارت میں پائپ بم رکھنا اور اس کے بعد وہاں کام کرنے والے ملازمین اور حکام کو گولی مار کر ہلاک کرنا چاہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکورنیل نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ وہ واشنگٹن جا کر کانگریس کی عمارت میں پائپ بم رکھنا اور اس کے بعد وہاں کام کرنے والے ملازمین اور حکام کو گولی مار کر ہلاک کرنا چاہتے ہیں

امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے ریاست اوہائیو میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس نے دولتِ اسلامیہ سے متاثر ہو کر واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق کرسٹوفر کورنیل پر ایک امریکی سرکاری افسر کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ایف بی آئی نے ان کی اس وقت نگرانی شروع کی تھی جب انھوں نے دولت اسلامیہ جیسی شدت پسند تنظیموں کی حمایت میں ٹویٹ کرنا شروع کی تھیں۔

20 سالہ کورنیل کو بدھ کے روز اسلحہ خریدتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔

ایف بی آئی کا ایک اہلکار خاصے عرصے سے ان کی نگرانی کر رہا تھا۔

ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ٹوئٹر پر راحیل عبیدہ کے نام سے اکاؤنٹ چلاتے تھے، جس کی ایف بی آئی نے اگست میں نگرانی شروع کی تھی۔

کورنیل نے ایف بی آئی کے ایک مخبر کو بتایا کہ انھیں دولتِ اسلامیہ نے براہِ راست حملے کا حکم نہیں دیا، لیکن وہ ’اپنے حکم پر جہاد شروع کرنا چاہتے ہیں۔‘

اکتوبر میں ایک ملاقات کے دوران انھوں نے مخبر کو بتایا کہ انھیں اسلحہ درکار ہے، تاہم انھوں نے اپنے منصوبے کی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

ایک اور ملاقات میں کورنیل نے مبینہ طور پر مخبر سے کہا کہ وہ واشنگٹن جا کر کانگریس کی عمارت میں پائپ بم رکھنا اور اس کے بعد وہاں کام کرنے والے ملازمین اور حکام کو گولی مار کر ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔

جب انھوں نے اوہائیو میں دو ایم 15 نیم خودکار رائفلیں اور 600 کارتوس خریدے تو انھیں ایف بی آئی کی جوائنٹ ٹاسک فورس نے گرفتار کر لیا۔