امریکی پولیس کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام نوجوان کی ہلاکت

پولیس کی بڑی تعداد علاقے میں موجود ہے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپولیس کی بڑی تعداد علاقے میں موجود ہے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہی ہے

امریکی شہر سینٹ لوئس میں پولیس نے گولی مار کر ایک سیاہ فام نوجوان کو ہلاک کردیا ہے۔اگست میں اسی شہر میں پولیس کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کی ہلاکت کے بعد شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔

مقامی پولیس کا موقف ہے کہ یہ نوجوان مسلح تھا اور اس نے ایک افسر پر پستول تانی تھی۔

شہر کے علاقے برکلے میں مارے جانے والے اس نوجوان کی شناخت 18 سالہ انتونیو مارٹن کے طور پر ہوئی ہے۔

انتونیو مارٹن کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی مظاہرین کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہو گئی اور پولیس کے خلاف احتجاج کیا۔

شہر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہno

،تصویر کا کیپشنشہر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

پولیس کے ترجمان سارجنٹ برائن شیل نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ منگل کی شام معمول کے گشت کے دوران دو مشکوک افراد کی تلاشی لینے کی کوشش کی گئ تو ان میں سے ایک نے پولیس افسر پر پستول تان لی۔ اپنی زندگی کو خطرے میں پاتے ہوئے اس افسر نے جوابی کارروائی کی جس میں یہ نوجوان مارا گیا اور دوسرا موقعے سے فرار ہوگیا۔

نوجوان کی ہلاکت کے بعد سے شہر میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور پولیس نے مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں اور چار افراد کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے۔

ایک مقامی صحافی لورا ہٹیگر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی بڑی تعداد علاقے میں موجود ہے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پولیس نے چار افراد کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپولیس نے چار افراد کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے

سینٹ لوئس پولیس کے سربراہ کرنل جان بلمر نے واقعہ کو المیہ کرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انتونیو مارٹن کی ہلاکت کی صاف وشفاف تحقیقات کی جائینگی۔

پولیس واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور وقوعہ سے فرار ہونے والے دوسرے شخص کی تصویر جاری کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ اس سی پہلے مائیکل براؤن کو جو غیر مسلح تھا مارنے والے پولیس افسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی جس کے خلاف سیا فام امریکی شہریوں نے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا۔