پیٹریئس پر خفیہ معلومات دینے کے الزام میں مقدمے کی سفارش

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق استغاثہ نے سفارش کی ہے کہ سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریئس پر اپنی سابقہ ساتھی کو خفیہ معلومات دینے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے۔
امریکی جریدے کے مطابق یہ بات حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتائی۔
جنرل پیٹریئس نے 2012 میں اس وقت استعفیٰ دے دیا تھا جب ان کا پولا بروڈویل کے ساتھ معاشقے کی معلومات منظرِ عام پر آئیں۔
سی آئی اے کے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے سے قبل وہ عراق اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر تھے۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف اس بات کی یفتیش کر رہا ہے کہ آیا جنرل پیٹریئس نے بروڈویل کو سی آئی اے کی ای میل اور دیگر خفیہ معلومات تک رسائی دی یا نہیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ جنرل پیٹریئس کے مستعفی ہونے کے بعد بروڈویل کے کمپیوٹر میں سے ایف بی آئی نے خفیہ دستاویزات برآمد کی تھیں۔
ایف بی آئی اور محکمہ انصاف کی جانب سے مقدمہ چلانے کی سفارش کے بعد اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا جنرل پیٹریئس پر فردِ جرم عائد کی جائے یا نہیں۔
تاہم اس حوالے سے جنرل پیٹریئس کے وکیل نے تبصرہ نہیں کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیو یارک ٹائمز کے مطابق جنرل پیٹریئس کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے بروڈویل کو خفیہ دستاویزات فراہم نہیں کیے۔
جنرل پیٹریئس اور پولا بروڈویل کا معاشقہ 2011 میں اس وقت شروع ہوا جب وہ جنرل کی سوانی عمری پر کام کر رہی تھیں۔
اسی سال جنرل پیٹریئس نے افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ کے طور پر استعفیٰ دیا اور سی آئی اے کے سربراہ مقرر ہوئے۔







